30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برکتىں ہوں گى، لہذا سب بھائى ان باتوں پر عمل پىرا ہوں۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمومی طور پرمعاشرے کے ہرفردکی گھریلو زندگی الگ اور گھر سے باہر کی زندگی الگ انداز میں گزرتی ہے ، کوئی گھریلو زندگی میں کامیاب تو کوئی باہر کی زندگی میں کامیاب، ایسے افراد بہت کم پائے جاتے ہیں جو دونوں طرح کی زندگیوں میں خود کو منوالیتے ہیں آئیے ! حضرت غزالىٔ زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی مبارکہ کے اس پہلو کے متعلق سنیئے چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکی بچوں کی والدہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہَاارشاد فر ماتی ہیں : نکاح کے چند دن بعد ہی آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا : آپ راہِ خدا میں جو کچھ خرچ کریں چاہے وہ صدقہ خیرات ہو یا کسی غریب کی مدد ،اس میں یہ نیت ضرورکر لیا کریں کہ آدھا آپ کی طرف سے اور آدھا میری جانب سے ،یونہی میں بھی جو راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں دوں گا اس میں آدھا حصہ آپ کا رکھوں گا ،مزید فرماتی ہیں کہ میں اب تک اس بات پر قائم ہوں اورجو بھی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں دیتی ہوں اس میں حضرت کا آدھا حصہ ضرور رکھتی ہوں ۔ویسے بھی جو آمدنی ہوتی وہ میرے ہاتھ پر رکھ دیتے اپنے پاس کوئی پائی پیسہ نہ رکھتے ،جب ضروت پڑتی مجھ سے مانگ لیتے ،یہاں تک کہ حجام کی اجرت بھی مجھ سے لے کر دیتے ،چونکہ میں کچھ رقم بچا کر رکھ لیا کرتی تھی اسی لئے کبھی کبھار حساب دینا بھی چاہتی تو حساب نہ لیتے اورمنع فرمادیتے ،دین ِ اسلام کی ترویج واشاعت کے سلسلے میں جہاں کہیں سفر پر تشریف لے جاتے تومیری دل جوئی کی خاطر وہاں کی مشہور سوغاتیں بطورِ تحفہ اپنے ہمراہ ضرور لاتے ۔([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت غزالیٔ زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ دینی مصروفیات کے باوجود اپنے بچوں سے بے حد محبت فرماتے تھے ،ان کی اخلاقی تربیت فرماتے ،مطالعہ وغیرہ کے دوران اگر کوئی بچہ دور کھڑا ہو کر دیکھتا تو اسے پاس بلا لیتے ، شفقت سے سر پر ہاتھ پھىرتے اور پىشانى چومتے پھر اپنے پاس بٹھالیتے ، اگر کچھ تناول کررہے ہوتے تو اپنے ہاتھ سے بچوں کو بھی کھلاتے ،جب گھر تشرىف لاتے تو اىک دستر خوان پر سب گھر والوں کو جمع کرتے اورساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہر اىک پر انفرادى توجہ دیا کرتے تھے ، کسى کى پلىٹ مىں کوئى چىز کم نظر آتی تو خود اپنے ہاتھ سے ڈال دیا کرتے ،پھل تقسیم کرنے کے بجائے کا ٹ کر اس کی قاشیں ہر بچے کو خود کھلایا کرتے ،اتنی مصروف زندگی گزارنے کے باوجود بھی ہرہر بچے کى خواہش کو یوں جانتے تھے کہ گوىا اس کے دل مىں چھپے بىٹھے ہىں،آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بچوں کے چہرے کا رنگ دىکھ کر سمجھ جایاکرتے تھے کہ کىا ماجرا ہے ، محبت اور شفقت کا تو یہ عالم تھا کہ جب کوئی ان سے بات کرنا چاہتا تواس کی بات توجہ کے ساتھ سنا کرتے ، پوری زندگی یہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا کہ میں ابھى جلدی میں ہوں یا میرے پاس وقت نہیں ہے اور یہ بات پھر کرلىں گے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ جب بچوں کے ساتھ دسترخوان پر تشریف فرما ہوتے تو مستقل آدابِِ نبوی سے روشناس کرواتے رہتے ۔بچوں کو آپس کے حقوق بتاتے اور ایک دوسرے سے محبت کا درس دیتے ۔ ہمیشہ یہی درس دیتے کہ وہ کام کریں جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا حاصل ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کے ساتھ ساتھ اس کی رضا اور کریمی کے حصول کی ترغیب بھی دیتے ۔([3])
اپنا کام اپنے ہاتھوں اچھا لگتاہے
غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سادگی کا ایک اعلی نمونہ تھے بارہا ایسا ہوا کہ گرمی کے موسم میں پسینے سے شرابور ہوتے تو کرتہ اتار دیتے اور اپنے کپڑے خودہی دھونا شروع کردیتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگرد جب اصرار کرتے کہ ہمیں خدمت کا موقع دیجئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرا کرارشاد فرماتے : ”اپنا کام اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع