30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بىچارہ احساسِ ندامت سے مراجارہا تھا اور وہ صاحب تھے کہ غصے سے مسلسل بولے جارہے تھے ۔حضرت غزالى زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ىہ تمام منظر دىکھا،نوجوان کوفوراً اپنے قرىب بلاىا، دستِ شفقت سر پر رکھا ، اپنے سىنے سے لگاىااور پیار بھرے انداز میں تربیت فرمائی ۔پھر ان صاحب کو بھی پاس بلا کر اَحسن انداز میں سمجھایا ۔دىکھتے ہى دىکھتے پسىنے کے قطرے جو کچھ دىر پہلے اشکِ ندامت بن کر نوجوان کى پىشانى پر امنڈ آئے تھے اب خوشى و مسرت کے آنسو بن کر نوجوان کى آنکھوں مىں چمکنے لگے ، غلط اندازِ تفہیم سے مرجھا جانے والا چہرہ غزالىِ زماں کى محبت و شفقت اور کرىمانہ گفتگو سے کھل اٹھا۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں ہر معاملے میں نرمی سے کام لینا چاہئے خاص طور پر جب کسی کو کوئی سنّت یا دینی بات سمجھانا مقصود ہو کیونکہ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ والے انداز سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوتے جو پیار و محبت سے سمجھانے سے ہوتے ہیں ۔کسی کو سب کے سامنے جھاڑ کر اصلاح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی برتن میں کچھ ڈالنے سے پہلے ہی اسے توڑ دیا جائے ۔
ہے فلاح وکامرانی نرمی وآسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
غریبوں سے محبت
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غریبوں سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔ایک بار دارالحدیث میں تشریف فرما تھے کہ ایک غریب دیہاتی حاضر خدمت ہوا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسکرا کر خوش آمدید کہا ۔پاس بٹھا کر آنے کی وجہ دریافت فرمائی تو اس نے عرض کی،حضور!فلاں تاریخ کو فلاں جگہ آپ کے بیان کا وقت درکار ہے ،شفقت فرمائیے اور وقت عطا فرما دیجئے ۔اس نے ابھی بات مکمل ہی کی تھی کہ اچانک باہر دروازے پر ایک کار رکی جس سے ایک امیر آدمی اتر کر حضرت غزالیٔ زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اسی تاریخ کو بیان کے وقت کا مطالبہ کرنے لگا ۔غریب دیہاتی کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسکراتے ہوئے اس غریب آدمی سے فرمایا : آپ فکر نہ کریں میں آپ کے ہاں بیان کے لئے ضرور آؤں گا،یہ فرما کر اس کار والے سے معذرت کر لی۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک دفعہ غریبوں پر زیادہ شفقت کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا : غریب بڑے مخلص اور سادہ لوح ہوتے ہیں اسلام کے ابتدائی دور میں بھی یہی لوگ معاون و جان نثار بنے ۔ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ غریب ہی اسلام سے ٹوٹ کر محبت کریں گے اور اسلام کے لیے قربانیاں دیں گے ۔([2])
حضرت غزالیٔ زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حقوق العباد کے بارے میں بڑی احتیاط فرماتے تھے ،ایک بار ارشاد فرمایا : ہرشخص کو چاہىے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق بھى ادا کرے اور بندوں کے حقوق کا بھى خىال رکھے ،اگر بندوں کے حقوق ہمارے ذمے رہے توہمارے لىے کوئى پناہ نہىں ہے ۔پھر ارشاد فرمایا : اگرمىرى طرف سے کسى شخص کے حق مىں ناپسندىدگى کے لفظ نکلے ہوں تو مىں ہاتھ جوڑ کر معافى چاہتا ہوں، کىونکہ مىںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق ادا کرنے کے لىے کوشاں رہتا ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لىے بھی کوشاں ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالىٰ مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کى توفىق دے اور اپنے بندوں کے حقوق بھى ادا کرادے ، ىہى آپ سے بھی عرض کرتا ہوں،یاد رکھئے ! یہ دنیا کی زندگى چند روزہ ہے ، رازق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ، ظاہرى اسباب اللہعَزَّ وَجَلَّ نے پىدا کىے ہىں،مگر وہ ظاہرى اسباب رازق نہىں،رازقاللہعَزَّوَجَلَّہے ۔ہم تجارت کرىں،زراعت کرىں خواہ دوکاندارى کرىں ىہ نہ سمجھىں کہ اگر یہ نہ ہو تو روزى نہ ملے گى ۔ىہ تو اللہ تعالىٰ نے روزى کا ذریعہ بنایا ہے ہاں کسى تاجر ، دوکاندار،کسى زمىندار یا مزدور کو ىہ جائز نہىں کہ اپنے کام مىں کوتاہى کرے اور دوسرے کى حق تلفى کرے ،مزدور مزدورى پورى لے اور مالک کا کام پورا نہ کرے ىہ کوتاہى ہے ۔جولوگ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کردىتے ہىں تاکہ نفع زىادہ ہوجائے ىہ بالکل کسى کام کا منافع نہىں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حلال روزى کا سوال کرواسى مىں برکت ہوگى، لہذا سب پىر بھائى اس بات کو اپنے ذہن مىں رکھىں کوئى اپنے مفاد کے لىے بے اىمانى نہ کرے ، اپنے کاروبار کو صاف رکھیں، سچ سے منافع ہواگرچہ وہ تھوڑا ہو ،وہ ظاہراًدىکھنے مىں تھوڑا ہوگا مگر اسى مىں بے پناہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع