30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنّت کا فرض ہے کہ اس دعوت کو پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پہنچا ئیں اور اس کے ساتھ بیرونی ممالک میں بھی اس دعوتِ اسلامی کو عام کریں ۔ ہرسنی کو یہ بات اچھی طرح یاد رہے دعوتِ اسلامی کے محرک مولانا محمد الیاس صاحب قادری مُتَصَلِّب سنی اور حضرت ضِیاءُالمِلَّۃِوَالدِّین مولانا محمد ضیاءالدین صاحب قادری رضوی مہاجر مدنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مرید ہیں ۔بلاتأمل ہرسنی کو اس تحریک دعوتِ اسلامی میں شامل ہو کر اسے تقویت پہنچانا چاہئے ۔‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آؤ علمائے دیں بہرِ تبلیغِ دیں مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو
اولیائے کرام ان کا فیضانِ عام لوٹنے سب چلیں قافلے میں چلو
حضرت غزالیٔ زماںرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نہ صرف مسجد ومدرسہ کی خدمت کی ترغیب دلاتے بلکہ جب بھی موقع ملتا اس کی سعادت بھی پاتے تھے ۔اس معاملے میں غرور وتکبر سے کوسوں دور اور عاجزی وانکساری سے مزیّن تھے ۔چنانچہ
اىک دفعہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جامعہ میں سالانہ اجتماع کے انتظامات کے موقع پر اىک محلے سے شاگردوں کے ہمراہ قالىن لىنے گئے ۔اىک گھر سے قالىن لے کر شاگردوں کو دىئے ۔جب وہ طالب عِلْم قالىن مدرسہ پہنچا کر لوٹے تو دىکھا کہ غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود بھى سر پر قالىن اٹھائے آرہے ہیں ۔شاگردوں نے ىہ عالم دىکھا تو ر ونے لگے اور عرض کى حُضور! ىہ تکلىف کىوں فرمائى؟ تو فرماىا : ىہ دىن کا کام ہے اس سے کسى کى شان مىں کمى نہىں آتى۔([1])
حُضور غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خدمت دین میں نازونِعَم کو آڑے نہ آنے دیا اور طرح طرح کی تکالیف و مصائب کو برداشت کرتے ہوئے دین کی خدمت میں مصروف رہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شدید گرمی میں بھی دور دراز پىدل سفر کرکے جاتے اور لوگوں کو عِلْمِ دىن سکھاتے ۔آج لوگ جہاں گاڑی میں بىٹھ کر بھى جانا گوارا نہىں کرتے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ وہاں بھى پىدل پہنچے ۔کوئی بھی حاضر خدمت ہو کر بیان کا وقت مانگتا فوراً وقت عطا فرما دیتے ۔بارہا اىساہوا کہ طوىل سفر کے باوجود بھى صاحبِ دعوت نے امتحاناًىا غربت کى وجہ سے زادِ راہ تک نہ دىا اور آئندہ سال پھر تارىخ لىنے آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بغیر پس و پیش کیے دوبارہ وقت عطا فرما دیا ۔([2])
بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں سلام کریں اور خود سلام میں پہل کرنا گوارا نہیں کرتے یا شاید اسے کسرِشان تصور کرتے ہیں مگر غزالئ زماں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جب بھی کوئی حاضر ہوتا فوراً سلام کرتے اور کسی کے سلام کرنے کا انتظار نہ فرماتے چنانچہ
امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلامی بھائیوں کی تربیت کے لیے فرماتے ہیں : میں نے غزالئ دوراں علامہ کاظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ عمل ایک بار نہیں بلکہ بارہا دیکھا ہے کہ ہم جب بھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے اس سے پہلے کہ ہم السلام علیکم کہتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سلام میں پہل فرماتے ۔غزالئ دوراں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی یہ عادت تھی کہ انتظار ہی نہیں کرتے تھے کہ یہ مجھے سلام کرے تو وہ مجھے سلام کرے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک بار حضرت غزالى زماں رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ شاہی عید گاہ میں عصر کی نماز کے بعد تشریف فرما تھے اتنے میں ایک نوجوان آیا اور ننگے سر نماز شروع کر دی ،اس نے جونہی نماز ختم کی ایک صاحب نے اس پر چڑھائی کر دی اور ننگے سر نماز پڑھنے پر خوب سرزنش کی۔لوگوں کے سامنے اچانک سرزنش پر نوجوان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع