دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Dawat e Islami (Special Edition Sep 2022) | فیضانِ دعوتِ اسلامی (اسپیشل ایڈیشن ستمبر-2022)

Dawat e Islami Aur Social Life

book_icon
فیضانِ دعوتِ اسلامی (اسپیشل ایڈیشن ستمبر-2022)

دعوتِ اسلامی اور سوشل لائف

Dawat-e-islami & Social Life
مولانا محمد ناصر جمال عطاری مدنی
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کے بگاڑ اور سدھار کا تعلق براہ ِ راست (Direct)”افراد“ سے ہے کیوں کہ فرد کی اچھی پرفارمنس ہی وہ اساس(Base) ہے جس پر معاشرے (Society) کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، افراد کے اعلیٰ اخلاق وکردار، ان کی ان تھک محنت اورپرخلوص کوششوں جیسی کئی خوبیاں معاشرےکی اس عمارت کو محفوظ (Save)، پُرکشش (Attractive)اور قابلِ رشک حدتک اُونچا بنادیتی ہیں اور معاشرےکےیہی افراد اپنے علاوہ دوسروں کی سوشل لائف کو تباہی سے بچانے کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ اسلام نے قرآن و حدیث کے ذریعے افراد اور سوسائٹی کو بچانے کے لئے شخصیت سازی کے  بہت ہی اہم  اصول  دئیے ہیں۔دعوت ِ اسلامی نے41سال میں اِن اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لئے  بہت ہی منظم تربیتی سسٹم بنایا ہے،اس سسٹم کا مکمل تعارف تو  چند صفحات میں نہیں سماسکتا لہٰذا بنیادی  باتوں میں سے چند کا تعارف پیش کیا جارہا ہے، ملاحظہ کیجئے:
(1)خالق کا فرمانبرداربننے کی تربیت:اللہ کریم کے احکام پر عمل  کا  پورا پورالحاظ اور اُس کی  نافرمانی سے بچنے کا خوف نہ ہوتو بندہ بےباک ہوجاتا ہے اوریہ بےباکی معاشرےمیں گناہوں کے سیلاب اورحق تلفیوں کے طوفان کا سبب بنتی ہے۔ اگر معاشرے کے افراد کو خالق و مالک کا فرمانبردار رہنے کی تربیت دے دی جائے تو یہ آزمائشیں نہیں آتیں بلکہ خدا خوفی کی وجہ سے معاشرے کوامن و استحکام نصیب ہوتا ہے۔ دعوتِ اسلامی اس اہمیت کے پیشِ نظر اللہ پاک کاخوف دلوں میں بٹھانے اور ہر صورت میں  اُس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی  تربیت دیتی ہے۔ اس مسلسل تربیت کےنتیجے میں سوسائٹی کے لیے ناسور بننے والے بےشمار لوگوں  کی زندگی  یوں بدلی کہ اب وہ دکھ دینے والے نہیں بلکہ سکھ دینے والے بن چکے ہیں۔
(2)عشقِ رسول  کی تربیت:ایک مسلمان کوبھلائی  و خیر خواہی کا خُوگر بنانے میں سب سے زیادہ مددگار عشق رسول ہے کیوں کہ جو مسلمان عشقِ رسول کی دولت سے مالامال ہوتا ہے وہ بدخواہی، دھوکے بازی ، غیبت  یا چغلی جیسی ڈھیروں  برائیوں سے محض اس  لیے باز رہتا ہے کہ ان سے محبوب کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے  منع کیا ہے۔ جذبۂ عشقِ رسول میں اضافے کے لیے دعوتِ اسلامی  خصوصی تربیت کا اہتمام کرتی ہے جس کے نتیجے میں یہ تربیت پانے والے لوگ  مشکلات دور کرنے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی میں امّت کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی خوب کوشش کرتے ہیں۔
(3)نیت درست رکھنے کی تربیت:بدنیّتی ہمارے اچھے سے اچھے کام کے رزلٹ کو اُلٹ دیتی ہے لہٰذاجب سیدھے کاموں کے اُلٹے نتیجے نکلنے لگیں توسمجھ جانا چاہئے کہ اِس کے پیچھے بدنیتی کار فرما ہے، غالباًیہ  چند جملےسوشل لائف میں درست  نیّت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں،اسی اہمیت کے پیشِ نظر دعوتِ اسلامی نیّت کی سمتوں کو درست کرنے کی بھر پور تربیت دیتی ہے  اور کسی بھی کام سے پہلے کچھ نہ کچھ اچھی نیّتیں کرنے کی عادت بنانے کی تربیت دیتی ہے ۔
(4) جسم کےآٹھ حصوں کی پروٹیکشن:سوشل لائف میں  خوبی یا خرابی پیدا کرنےمیں جسم کے آٹھ حصّوں (آنکھ،کان، زبان، پیٹ، ہاتھ، پاؤں، شرم گاہ اور دل) کا کردار بہت اہم ہے۔ حسدو تکبر اور بدگمانی وغیرہ سے لے کربدکاری، چوری، ڈکیتی اور قتل و غارت گری تک میں انسان کے یہ آٹھ جسمانی حصّے زیادہ استعمال ہوتے ہیں لہٰذا ان پر کنڑول کر کے بہت سے جرائم اور گناہوں کا دروازہ بند کیا جاسکتا ہے۔ اس اہمیت کو پیشِ نظر رکھ کر دعوتِ اسلامی لوگوں کو اِن جسمانی حصّوں سے متعلق اسلامی تعلیمات سےآگاہ بھی کرتی ہے اور اِن کوکنڑول میں رکھنے کی تجاویز بھی دیتی ہے۔
(5)ڈیلی روٹین کو منظم رکھنے کی تاکید:ہرکام کے لئے ایک وقت رکھنااور ہروقت کے لئے ایک کام رکھنا کامیابی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہےاور اس   پر عمل  پیرا ہونے کے لئے ڈیلی روٹین کوٹائم مینجمنٹ کےمطابق گزارنے کی عادت ہونا ضروری ہے۔ جس سوسائٹی کے افراد میں یہ  عادت جتنی پختہ ہوتی ہے وہاں ترقی کی شرح میں بھی اتنی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ دعوتِ اسلامی نے بھی فرد کی ڈیلی روٹین کو منظم رکھنے کے لئے بھرپور انتظام کیا ہے جس کی ایک کڑی مردو خواتین، معذور افراد اور بچوں کے لئے خود احتسابی (Self-Accountability) پر مشتمل امیرِ اہلِ سنّت علامہ محمد الیاس عطّار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا تحریر کردہ ایک پاکٹ سائز بُک لیٹ ہے جو ایک عرصے سے شائع ہورہا ہے نیز ”نیک اعمال“ نامی اِس بُک لیٹ کے ذریعے آنے والی تبدیلیوں اور  رکاوٹوں کاجائزہ لینے کے لئے علاقے، شہر اور ملکی سطح پرپورا سسٹم موجود ہے۔ یادرہے! ”نیک اعمال“ کے بُک لیٹ کو روزانہ فِل کرنے والوں کی بہت بڑی تعداددینی ودنیوی میدانوں میں کامیاب انفرادی زندگی گزار کراور سوسائٹی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر کے دنیا بھر میں دعوتِ اسلامی  کی  نیک نامی اور ترقی  کا سبب بن رہی ہے ۔
(6)علم کی  جستجو میں رہنے کی تربیت:صحیح و  غلط میں امتیاز کے لئے ”علم “بہت ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ  اسلام میں علم اور علماء کی خوب پزیرائی کی گئی ہے۔ دعوتِ اسلامی نے جہاں ملک و بیرونِ ممالک کے لوگوں میں علم کی جستجو پیدا کی وہیں اپنے نیٹ ورک، تعلیمی اداروں، معتبر لٹریچر، جدید ٹیکنالوجی اور مدنی چینل  وغیرہ کے ذریعے علمی پیاس بجھانے کا بھی سامان کیا ۔
(7) بندوں کےحقوق پورےکرنےکی تربیت: سماجی زندگی میں ہرشخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو باہمی حقوق بھی ایک دوسرے پر عائد ہوتے ہی ہیں، اگر حق تلفی کی جائے تو سوسائٹی میں کئی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ دعوتِ اسلامی نے حق تلفی کے طوفان کو روکنے کے لئے  لوگوں میں ”حقوق“ کے حوالے سے حسّاسیّت کا شعور خوب بیدار کیا ہےجس کے نتیجے میں حق تلفی کو برا جاننے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا رجحان بڑھا ہے اور خدا نخواستہ کسی کی حق تلفی ہوجانے پر معافی مانگنے اور ازالے کے شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کے عملی مظاہرے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
(8)اپنی ذات سے دوسروں  کوفائدہ پہنچانے کی تربیت: اسلام کی روشن تعلیمات میں سے ایک یہ بھی ہےایک مسلمان دوسروں کے  لئے بھی فائدہ مند بنے۔ دعوتِ اسلامی   کی پہلے دن سے لے کر آج  تک کی   تاریخ  سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  دعوتِ اسلامی نے لوگوں میں کسی دنیوی فائدے یالالچ کے بغیر رضاکارانہ طور پر اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی سوچ پیدا کی ہے اسی سوچ کا نتیجہ ہےکہ لاتعداد مبلغین و مبلغات دعوتِ اسلامی کے دینی  کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے کر اسلام کی پُر امن تعلیمات پھیلانے، نیکیوں کا پرچار کرنے اور گناہوں کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی کوششوں کا نتیجہ ہےکہ بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلی آرہی ہےاوروہ بھی دوسروں کا بھلاکرنے کے مشن میں دعوت ِ اسلامی کا ساتھ دے رہے ہیں۔
دعوتِ اسلامی کے سوشل لائف پر اثرات کی سالوں پر مشتمل تاریخ بہت روشن ہے،آپ بھی دینی کاموں میں حصہ لے کر اِس روشنی کومزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں تو پھر دیر کس بات کی؟ آئیے! ہم اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش میں عملی طور پرشامل ہونے کے لئےدعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں عملاً شامل ہوجاتے ہیں ۔

مساجد کی آباد کاری میں دعوتِ اسلامی کا کردار

مولانا بلال حسین عطّاری مدنی
پیارے آقا، جنابِ محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہجرتِ مدینہ کے دوران اسلام کی جو سب سے پہلی مسجد قائم فرمائی اسے مسجدِ قبا کے نام سے جانا جاتا ہے، مسجد قبا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اسلام کے پھیلنے کے ساتھ بڑھتا رہا اور اَلحمدُلِلّٰہ آج دنیا بھرمیں لاکھوں مساجد موجود ہیں۔ خود سلطانِ دوجہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابۂ کرام و بزرگانِ دین نے تعمیرِ مسجد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بزرگانِ دین کی روش پر چلتے ہوئے اَلحمدُ لِلّٰہ عاشقانِ مساجد کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی بھی اپنے قیام سے لے کر اب تک دنیا بھر میں کثیر مساجد تعمیر کرچکی ہے، قیامِ مساجد کا یہ سلسلہ جوکہ تاحال جاری ہے اِن شآءَ اللہُ العزیز تاقیامت جاری رہے گا۔
قیامِ مسجد کے مقاصد: یاد رکھیں کہ مسجدیں صرف اور صرف نمازِ پنج گانہ کی ادائیگی کے لئے نہیں بلکہ اور بھی کئی دینی اعمال ہیں جو مسلمانوں کو مسجد میں سر انجام دے کر  مسجد کی آباد کاری میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وہ اعمال یعنی قیامِ مسجد کے مقاصد کیا ہیں؟ نماز کے علاوہ اور کون سے امور ہیں جو مساجد میں سر انجام دئیے جائیں؟ اس سلسلے میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابۂ کرام کی جانب سے  مسجدِ نبوی میں وقوع پذیر ہونے والی سرگرمیاں مسلم امّہ کے لئے آئیڈیل ہیں:  * معلمِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہیں اصحابِ صُفّہ کو تعلیم دیتے جوکہ اسلامی تاریخ کی پہلی درس گاہ بھی ہے  * مسجدِ نبوی میں علمی مکالمے ہوا کرتے  * مسلمانوں کی اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں یہیں انجام پاتیں  * صحابۂ کرام مسجدِ نبوی میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان میں اشعار پڑھا کرتے  * اس کے علاوہ اسلامی ریاست کے مختلف امور بھی مسجدِ نبوی میں  سر انجام دئیے جاتے تھے جن میں عدالتی فیصلے، قبائلی سرداران کی آمد و رفت، معاشرتی مسائل کا حل، غزوات کی تیاری، مالِ غنیمت کی تقسیم، مملکتِ مدینہ کے احوال کے بارے میں  مشاورت وغیرہ وغیرہ شامل ہوتی۔ 
اَلحمدُ لِلّٰہ روئے زمین کو مساجد سے جگمگانے والی دعوتِ اسلامی ان مساجد کی آباد کاری میں بھی خوب کردار ادا کررہی ہے کہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ عُمَّارَ بُيُوتِ اللَّهِ هُمْ اَهْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ یعنی اللہ پاک کے گھروں کو آباد کرنے والے ہی اللہ والے ہیں۔(معجم اوسط،2/58،حدیث:2502) 
مساجد کی آباد کاری کی خاطر دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری چند ایک کاوشوں کو  اس مضمون کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، ملاحظہ کیجئے!
دارُ السنّہ: مساجد کو 24گھنٹے آباد رکھنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مراکز میں دارُ السّنہ قائم ہیں جہاں پر 24 گھنٹے مبلغین دعوتِ اسلامی موجود ہوتے ہیں جو کہ آنے والے اسلامی بھائیوں کو حسبِ حال احکام و فرائض سکھاتے، مختلف کورسز کرواتے اور مدنی قافلوں میں سفر کرواتے ہیں۔
مدارسُ المدینہ بالغان: جو لوگ بچپن میں قراٰنِ پاک کی تعلیم یا درست تعلیم حاصل نہیں کرپائے، ظاہر ہے بڑے ہونے کے بعد ان کا مدرسے میں داخلہ لینا یا ان کو مدرسے میں داخلہ ملنا ایک سمجھ نہ آنے والی بات ہے! تو ایسے افراد کو دعوتِ اسلامی مدرسۃُ المدینہ بالغان کی سہولت میسر کررہی، مدارسُ المدینہ بالغان بھی عموماً مساجد ہی میں لگتے ہیں جہاں بڑی عمر کے افراد تجوید کے ساتھ قراٰن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ 
درس و بیان:یوں ہی نمازِ فجر کے بعد تفسیر سننے سنانے کا حلقہ لگایا جاتا ہے جس میں صدر الافاضل حضرت علامہ سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ کی تفسیر خزائنُ العرفان یا شیخُ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم عطّاری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی لکھی ہوئی تفسیر صراطُ الجنان سے درس قراٰن دیا جاتا ہے جبکہ ایک یا ایک سے زائد نمازوں کے بعد فیضانِ سنّت، فیضانِ نماز، غیبت کی تباہ کاریاں وغیرہ کسی کتاب سے درس دیا جاتا ہے۔
بڑی راتوں کے اجتماعات، اعتکاف و عبادات:دعوتِ اسلامی کے تحت گیارہویں، بارہویں، شبِ براءت اور شبِ معراج وغیرہ کے مواقع پر مساجد میں اجتماعات قائم ہوتے ہیں، جن میں درس و بیان کے ساتھ ساتھ مختلف عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور رات بھر نفلی اعتکاف بھی کیا جاتاہے۔
اجتماعات:دعوتِ اسلامی کے تحت ملک و بیرونِ ملک ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب (بعض مقامات پر بعد نمازِ عشا) مختلف مساجد میں ہفتہ وار سنتوں بھرا رونق افروز اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں مبلغینِ دعوتِ اسلامی کے بیان سمیت ذکر و نعت و اجتماعی دعا اور رات بھر کا نفلی اعتکاف بھی کیا جاتا ہے۔
مدنی مذاکرہ:ہر ہفتے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں بعد نمازِ عشا مدنی مذاکرہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں عاشقانِ رسول عقائد، عبادات اورمعاملات میں درپیش شرعی مسائل کا حل امیر اہلِ سنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے حاصل کرتے ہیں نیز ہفتہ وار مدنی مذاکرے کے علاوہ بھی مخصوص ایونٹس پر مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوتا ہے۔ 
مدنی قافلے: ملک و بیرونِ ملک لوگوں تک دعوتِ اسلام اور علم دین پہنچانے کیلئے مختلف دورانیے (مثلاً 3دن/ 12دن/ 1ماہ/12ماہ) پر مشتمل دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے راہِ خدا میں سفر کرتے رہتے ہیں، قافلے کے شرکا عموماً مسجد ہی میں قیام کرتے ہیں اور تعلیم و تعلم کے ذریعے مساجد کی رونقیں بحال رکھتے ہیں۔ درس و بیان، فرائض و سنّت کی تعلیم اور نماز کے پریکٹیکل سمیت دیگر تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں مدنی قافلے کی زینت ہوتی  ہیں۔
مدنی مشورے:دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کام کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانے کے لئے ذمہ داران مختلف مواقع پر میٹنگز کرتے رہتے ہیں، یہ میٹنگز بھی عموماً مساجد میں منعقد ہوتی ہیں جن میں دینی کاموں کا جائزہ، ذمہ داران کے مختلف شعبہ جات میں تبادلے و تقرریاں، کام کو مزید احسن انداز میں چلانے کے لئے تجاویز اور مشاورتوں کا سلسلہ ہوتا ہے۔
متفرق علمی  و تربیتی سرگرمیاں: اس کے علاوہ عاشقانِ رسول مساجد میں مختلف نوافل مثلاً اشراق، چاشت، تحیۃُ الوضو، تحیۃُ المسجد، اور صلوۃُ التّوبہ ادا کرتے ہیں، مختلف مقامات پر سحری کے اجتماعات منعقد کرکے مساجد کی رونق و آبادکاری کا سامان کرتے ہیں۔

عوام و خواص کی شرعی رہنمائی اور دعوتِ اسلامی

Shariah guidance of the people and Dawateislami
مولانا سید بہرام حسین شاہ عطاری مدنی
عِلم والوں سے پوچھو:اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے: فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷) ترجمۂ کنزالایمان:تو اے لوگو! عِلم والوں سے پوچھو اگر تمہیں عِلم نہ ہو۔(پ17،الانبیآء:7) اِس آیت میں نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ناواقف کے لئے اِس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں کہ وہ واقف سے دَریافت کرے اور جہالت کے مَرض کا علاج بھی یہی ہے کہ عالِم سے سُوال کرے اور اُس کے حکم پر عمل کرے اور جو اپنے اِس مَرض کا علاج نہیں کرتا وہ دُنیا و آخرت میں بہت نقصان اُٹھاتا ہے۔ (صراط الجنان،6/287) 
عِلم کی چابی: حضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم سے مَروی ہے:علم خزانہ ہے اور سُوال اس کی چابی ہے، اللہ پاک تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو کیونکہ سُوال کرنے کی صورت میں چار اَفراد کو ثواب دیا جاتا ہے:(1) سُوال کرنے والے کو (2)جواب دینے والے کو (3)سننے والے اور (4) ان سے محبت کرنے والے کو۔ (الفردوس بماثور الخطاب،2/80،حدیث: 4011) 
شرعی راہنمائی کرنے کی فضیلت: حضرت امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ نے حضرت رَبیع رحمۃُ اللہِ علیہ کی ایک رِوایت بیان کی کہ کسی شخص کو نماز کے مَسائل بتانا رُوئے زمین کی تمام دولت صَدقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی کی دِینی اُلجھن دُور کر دینا 100 حج کرنے سے افضل ہے ۔ (بستان المحدثین ، ص 38) 
عُلَما کا مَنصب :شرعی راہنمائی کرنے کی بڑی اَہمیت و فضیلت ہے،مگرہر ایک کو یہ مَنصب سنبھال لینے کی اِجازت نہیں، اِسی لئے امیرِ اہل ِ سنّت علّامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ اپنے مُریدین،متعلقین اور محبین کو اِس بات کی تَرغیب دِلاتے رہتے ہیں کہ ہر ہر مُعاملے میں عُلمائے کِرام سے شرعی راہنمائی لیں،بغیر شرعی راہنمائی کے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھائیں۔ 
مدنی مذاکرہ:اَلحمدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی نے اُمَّتِ مسلمہ کی خیرخواہی کیلئے جہاں بے شمار شعبہ جات قائم کئے ہیں وہاں اُمَّتِ مسلمہ کی شرعی راہنمائی کے لئے بھی مختلف شعبہ جات قائم کئے ہیں ۔ اِن میں سے ایک شعبہ ”مدنی مذاکرہ“ ہے جس میں کثیر اسلامی بھائی مختلف قسم کے موضوعات مثلاً عقائدو اَعمال، فَضائل و مَناقب، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت ، سائنس و طِبّ، اَخلاقیات واِسلامی معلومات،روزمَرَّہ کے مُعاملات اور دِیگر بہت سے موضوعات سے متعلق سُوالات کرتے ہیں اور امیرِ اہلِ سُنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ شرعی راہنمائی فرماتے ہوئے جوابات عطا فرماتے ہیں۔
ملفوظاتِ امیر ِاہل ِسنّت: آپ دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: مجھے شروع سے ہی شرعی مَسائل مىں دِلچسپى تھی،اِسی شوق کی وجہ سے مفتیِ اعظم پاکستان مفتى وقارُ الدىن قادری صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ کے پاس میرا آنا جانا لگا رہتا تھا،میں دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے بہارِ شرىعت کا دَرس دىتا تھا اور لوگ جو سُوالات کرتے اُن کے جوابات بھی دیتا تھا۔ یوں یہ سلسلہ دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے کا چلا آرہا ہے پھر جب دعوتِ اسلامى بنی اس مىں بھى ىہ سلسلہ چلتا رہا، البتہ پہلے اِس کا کوئی نام نہیں تھا،”مَدَنی مذاکرہ“نام بہت بعد میں دیا گیا ہے۔اللہ پاک اسے قبول فرمائے اور مجھے غلطیوں سے محفوظ رکھے، میری حتَّی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ میں یہ سلسلہ عُلَمائے کِرام کی موجودگى مىں کروں تاکہ غلطى ہو جائے تو ان سے اصلاح کروائی جا سکے۔ (ملفوظات امیر اہل سنّت ،قسط 225 ، ص12) اَلحمدُ لِلّٰہ مدنی مذاکروں کا یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے اور اِن کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اِن مَدَنی مذاکرات کو”ملفوظاتِ امیر اہلِ سنَّت“کے نام سے تحریری صورت میں بھی مُرتب کیا جا رہا ہے۔ اب تک ” ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت “کی سات جلدوں پر کام مکمل ہو چکا ہے،جن میں سے دو جلدیں چَھپ کر منظرِ عام پر آ چکی ہیں اور بقیہ پانچ جلدیں چَھپنے کے مَراحل میں ہیں۔ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنَّت کی یہ سات جلدیں 3742 صفحات پر مشتمل ہیں،جن میں تقریباً 4805 سُوالات اور ان کے جوابات ہیں جبکہ مزید جلدوں پر کام بھی اہداف میں شامل ہے۔
دارُالافتاء اہل سنَّت:دعوتِ اسلامی نے عوام وخواص کی شرعی راہنمائی کے لئے ملک بھر میں مختلف مقامات پر”دارُ الافتاء اہلِ سنَّت“بھی قائم کئے ہیں جہاں مفتیانِ کِرام تحریری، زبانی، فون اور دِیگر ذَرائع سے مسلمانوں کی شرعی راہنمائی کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔تادمِ تحریر ماہانہ کم وبیش ساڑھے سات سو سے زائد فتاویٰ دارُالافتاءاہلِ سنت سے جاری کئے جاتے ہیں اور اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تحریری فتاویٰ جاری کئے جاچکے ہیں۔ ای میل ایڈریس (darulifta@dawateislami.net) کے ذَریعے ماہانہ کم و بیش 2ہزار سُوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ بذریعہ فون پاکستان، یوکے، یورپ، امریکہ اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہانہ کم و بیش چار ہزار سے زائدسُوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ ہر ماہ دارُالافتاء اہل سنَّت میں آنے والے سائلین کو بالمشافہ دئیے جانے والے زبانی جوابات کی تعداد کم وبیش دس ہزار ہے۔ دعوتِ اسلامی کے آفیشل پیج اور مدنی چینل کے پیج پر بھی مفتیانِ کرام لائیو سلسلے کے ذَریعے عوام الناس کی شرعی راہنمائی فرماتے ہیں۔ اِس کے علاوہ عوام و خواص کی ضَرورت کے پیشِ نظر وقتاً فوقتاً دارُ الافتاء اہل سنَّت کی جانب سے مختلف کُتب و رَسائل مثلاً” مختصر فتاویٰ اہل سنَّت، اَحکام زکوٰۃ، 27 واجباتِ حج اور تفصیلی اَحکام،نماز میں لقمے کے مَسائل، ویلنٹائن ڈے(قرآن وحدیث کی روشنی میں)،کرسی پر نماز پڑھنے کے احکام“ کا اِجراء بھی کیا جاتا ہے۔ 
مجلسِ تحقیقاتِ شرعیّہ و شریعہ ایڈوائیزری بورڈ (افتاءمکتب): دعوتِ اسلامی نے عوام وخواص کو پیش آمَدَہ جدید مَسائل کے حل کے لئے ”مجلسِ تَحقیقاتِ شَرعِیَّہ“ جبکہ دعوتِ اسلامی کے جملہ امور کو شرعی اعتبار سے واچ کرنے کے لئے شریعہ ایڈوائیزری بورڈ (افتاءمکتب)بھی قائم کیا ہے جو کہ دعوتِ اسلامی کے جید عُلَمائے کِرام و مفتیانِ عظام پر مشتمل ہے۔ اللہ پاک دعوتِ اسلامی کی اِن کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماکر مزید ترقی عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

دعوتِ اسلامی کی عالمگیر دینی خدمات

Universal religious services of Dawateislami
مولانا آصف اقبال عطاری مدنی
دنیا جب کفروشرک کے ساتھ ساتھ ظلم وزیادتی، ناانصافی اور عدمِ مساوات جیسے غیرانسانی رویوں کا شکار تھی، اس وقت دینِ اسلام ایسا بےمثال پیغام لےکر آیا جس نے انسانوں کو ظلم کی چکی سے نکالا، حقدار کو اس کا حق دلوایا، ظالم کے ظلم سے مظلوم کو بچایا اور انسانیت کا درست مفہوم سمجھایا۔ اسلام کے اس عالمگیر پیغام کو عرب دنیا نے تیزی سے قبول کیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ آفاقی دین سرزمین عرب کی سرحدوں سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گیا۔لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے اور صدیوں تک مسلمانوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کی۔ پھر مسلمان حکمرانوں کی کوتاہیوں اور دینی تعلیمات سے دوری کے سبب اسلام کا وہ غلبہ نہ رہا ۔ لیکن ہر دور میں درد مندانِ اسلام، علمائے دین، مجددین، مصلحین اور مبلغین نے اپنے طور پر اسلام کی عالمگیریت کے لئے خوب کوششیں فرمائیں اور مقدوربھر تبلیغِ دین کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
یاد رہے کہ عالمگیریت ایسی عملیت پسندی کہلاتی ہے جس سے ساری دنیا کے لوگ ایک معاشرے میں متحد ہوجائیں اور تمام افعال ایک جیسے انداز پر سرانجام دیں اور یہ کئی طرح کی ہوتی ہے جیسے اقتصادی عالمگیریت اورتہذیبی عالمگیریت اور دینی عالمگیریت وغیرہ اور عالمگیر کہتے ہیں دنیاکو اپنی گرفت میں کرنے والے/ جہان کو فتح کرنے والے اوردنیا میں پھیلے ہوئے کو۔ اس تفصیل کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”اسلامی عالمگیریت“ یہ ہے کہ دنیاکے تمام لوگوں تک توحیدورسالت کا پیغام پہنچایا جائے، انہیں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ کا سبق پڑھایا جائے، اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا جائے، اسلامی اخلاق و آداب کی تعلیم وتربیت دی جائے اور انہیں ظاہری وباطنی برائیوں سے پاک کیا جائے تاکہ تمام لوگ ایک عقیدہ کے حامل ہوجائیں اور ایک جیسے اعمال سرانجام دیں یعنی عقیدہ وعمل میں متحد ہوجائیں تاکہ ایک عالمگیر پُرامن معاشرہ قائم کیا جائے ۔
دورِ حاضر میں اسلام کی عالمگیریت کو جس دینی تحریک نے سب سے زیادہ اجاگر کیا اور اس آفاقی پیغام کے عام کرنے میں اپنا بڑا حصہ ڈالا وہ بجا طور پر” دعوتِ اسلامی“ہے۔ اس تحریک نے ان ہی اصولوں اور طریقوں کو اپنایا جن کے تحت اسلام کے اولین مبلغین نے دنیا بھرمیں تبلیغِ دین کے لئے سعیِ جمیل کی، اپنے گھربار چھوڑے، اپنے ملک کو خیرباد کہا،عزیزواقارب کی جدائی برداشت کی، سفر کی صعوبتیں جھیلیں۔ بلامثال و بلاتشبیہ مبلغین دعوتِ اسلامی نے ان راہوں پرگامزن ہوکر دنیا بھر میں قراٰن وسنت کا پیغام عام کیا ہے ، تادمِ تحریر دنیا بھر میں عوتِ اسلامی کی دینی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بلاشبہ یہ عالمگیر تحریک اس پُرفتن و پُرآشوب دور میں ایک مینارۂ نور ہے جو اسلام کا درست چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش میں مگن ہے۔ اس کایہ پیغام عالمگیر کیوں نہ ہوکہ تحریک کے عظیم بانی شیخِ طریقت، امیر اہلِ سنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اپنا مقصد ہی ”ساری انسانیت کی اصلاح کی کوشش“ کوقرار دیا۔ اس عظیم مقصد کے پیشِ نظر کثیر عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے سفر کرتے رہتے ہیں، مبلغینِ دعوتِ اسلامی کی ایک تعداد نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ دوسرے ممالک کی طرف سفر کیا، غیرمسلموں کو دعوتِ اسلام دے کردائرۂ اسلام میں داخل کیا جاتا ہے، کثیرمساجد اور مدنی مراکز بنام فیضانِ مدینہ بنائے گئے، کئی ممالک میں جامعات و مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد ہوتا ہے اوربذریعہ انٹرنیٹ بھی دنیا بھر میں اسلام کا خوبصورت پیغام عام کیا جاتا ہے جس کی جیتی جاگتی مثالیں فیضان آن لائن اکیڈمی، مدنی چینل، ویب سائٹ،کثیرایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا فورمز ہیں۔
دعوتِ اسلامی کے عالمگیر کاموں پر ایک طائرانہ نظرڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستا ن سے باہر اب تک 10 چرچ خریدے گئے جہاں نمازیں اور دینی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔فیضانِ مدینہ کے نام سے 171مدنی مراکز قائم ہوچکے ہیں۔ مساجدو مدارس کے 1584پروجیکٹس زیرتعمیر ہیں۔ دارُالمدینہ اسکولنگ سسٹم (دعوتِ اسلامی) کےتحت انڈیا، نیپال، بنگلہ دیش، امریکہ، انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ میں 44 کیمپس شروع ہوچکے ہیں جن میں 795 افراد کا اسٹاف اور 7279 اسٹوڈنٹس ہیں جہاں بچپن ہی سے طلبہ وطالبات کی روحانی اوراخلاقی تربیت کی جارہی ہے۔علماومبلغین کی تیاری کے سلسلے میں طلبہ و طالبات کے 269 جامعاتُ المدینہ عالم کورس کروانے میں سرگرمِ عمل ہیں،جہاں 18176طلبہ وطالبات زیورِتعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں جبکہ 1648 اساتذہ کرام اور دیگرافراد (مدنی عملہ/ اسٹاف) اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حفظ و ناظرہ اور بچّوں کی بنیادی اسلامی تعلیم کیلئے 888مدارسُ المدینہ کام کر رہے ہیں جن میں 2825بچے درجہ حفظ میں اور 5929 بچّے درجہ ناظرہ میں قراٰنِ کریم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نیز دینی و دنیوی تعلیم کے بہترین نیٹ ورک دارُ المدینہ ایجوکیشن سسٹم کے 44 کیمپس میں 9ہزار سے زائد بچّے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس کے علاوہ سینکڑوں مقامات پر ہفتہ وار اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں جہاں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات، اخلاقیات اور بالخصوص سنتیں سکھائی جاتی ہیں۔
یادرہے کہ یہ کارکردگی تو صرف بیرونِ پاکستان کی ہے، ملکِ پاکستان کی کارکردگی اس سے جدا ہے۔
۔۔۔۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن