30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سرورِ دو جہاں، رحمت عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے عبدالرحمن! امارت نہ مانگو کیونکہ اگر وہ تمہارے مانگنے پر تمہیں دی گئی تو تمہیں بھی اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر بن مانگے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد بھی کی جائے گی ۔ ‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الأحکام، باب من سأل الإمارۃ وکل الیھا، الحدیث:۷۱۴۷، ج۴، ص۴۵۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یہ مدد ان دو فرشتوں کے ذریعے ہوتی ہے جو درست فیصلہ کرنے میں حَکَم کو حق پر ثابت قدم رکھتے ہیں ۔ چنانچہ،
حضرت عبد اللّٰہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب قاضی عدالت میں بیٹھتا ہے تو دو فرشتے اترتے ہیں اور اس کی رائے کو درست رکھتے ہیں، اسے ٹھیک بات سمجھنے کی توفیق دیتے ہیں اور اسے صحیح راستہ سجھاتے ہیں جب تک کہ حق سے منہ نہ موڑے اور جہاں اس نے حق سے منہ موڑا فرشتوں نے بھی اسے چھوڑا اور آسمان پر پرواز کر گئے ۔ (السنن الکبریٰ، کتاب آداب القاضی، باب فضل من ابتلی بشیٔ من الاعمال، الحدیث:۲۰۱۶۶، ج۱۰، ص۱۵۱)
فاروقِ اعظم کے مدد گار فرشتے :
حضرت سیِّدُنا سعید ابن مسیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہودی کو حق پر دیکھ کر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا ۔ اس پر اُس یہودی نے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: ’’ اللہ کی قسم! یقیناً آپ نے حق فیصلہ فرمایا ہے ۔ ‘‘ امیر المومنین سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے دُرّہ مار کر دریافت فرمایا: ’’تجھے کیسے معلوم ہوا؟‘‘ یہودی نے عرض کی: ’’ اللہ کی قسم! ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق کے مطابق فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے اور ایک فرشتہ بائیں طرف ۔ یہ دونوں فرشتے اس وقت تک اسے راہِ راست پر رکھتے ہیں اور حق کی توفیق دیتے ہیں جب تک کہ وہ حق پر قائم رہتا ہے اور جب حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں اسے چھوڑ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں ۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضاء، الفصل الثالث، الحدیث:۳۷۴۲، ج۳، ص۳۴۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{4} فریقین میں صلح کرا دیجئے
پیارے اسلامی بھائیو! اگر کبھی دو اسلامی بھائیوں کے درمیان کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہو جائے تو کسی ذمہ دار اسلامی بھائی کو کوشش کرنی چاہئے کہ فریقین آپس میں باہمی بات چیت کے ذریعے کسی سود مند نتیجہ پر پہنچ کر صلح کر لیں ۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰) (پ۲۶، الحجرات:۹ تا ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بیشک عدل والے اللہکو پیارے ہیں ۔ مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اوراللہسے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو ۔
صدر الافاضل، حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں ان آیاتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے ، انصار کی مجلس پر گزرہوا، وہاں تھوڑا سا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع