30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتا، لڑواتا اور قتل وغارتگری کرواتا ہے ، نیز انہیں صلح پر آمادہ ہونے ہی نہیں دیتا ۔ بلکہ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نیک دل اسلامی بھائی بیچ میں پڑ کر ان میں صلح کروا بھی دے تب بھی طرح طرح کے وسوسے ڈال کر بھڑکاتا ہے ۔
شیطان مکار ونابکار کے وار سے خبردار کرتے ہوئے پارہ 15 سورۂ بنی اسرائیل کی 53 ویں آیتِ کریمہ میں ہمارا پیارا پروردگارعَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ- (پ۱۵، بنی اسرائیل:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے ۔ (ناچاقیوں کا علاج، ص۵ تا ۶)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جب اس طرح کی صورتحال پیداہوتی ہے تو اس وقت لوگ عموماً کسی اہم فرد (خواہ وہ کسی گھر یا قبیلے کا سربراہ ہو یا کسی ادارے یا تنظیم کا بڑا ذمہ دار) کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پھر اس فرد کو فیصلہ کرنے کی اہم ذمہ داری ادا کرنا پڑتی ہے ۔ یہ ذمہ داری اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ایسا معاملہ کسی دینی تنظیم کے ذمہ دار کے ہاں پیش ہوتا ہے کہ اس سے اگر کوئی غلط فیصلہ سرزد ہوگیا تو طرفین میں سے دونوں یا ایک بدظن ہو کر اس ذمہ دار … اور حماقت کی رفاقت ہوئی تو تنظیم … بلکہ شقاوت کی نحوست بھی ساتھ ہوئی تو دین سے دور ہوکر پھر سے گناہوں بھرے گندے ماحول میں پڑ سکتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آدابِ فیصلہ
لہذا حَکَم (یعنی فیصلہ کرنے والے ) کیلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کے لئے ضروری شرعی آداب جانتا ہو، جنہیں پیشِ نظر رکھ کر انتہائی حکمتِ عملی سے فیصلہ کرے ۔ چنانچہ، ذیل میں فیصلہ کرنے کے کچھ آداب بیان کئے جاتے ہیں ۔
{1} علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوں
دو اسلامی بھائیوں میں کسی قسم کا نزاع واقع ہو تو انہیں چاہئے کہ نزاع کا شرعی حل تلاش کرنے کے لئے علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی خدمت میں حاضر ہوں ۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ- (پ۵، النساء:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اُس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ قرآن و سنت سے مسائل کا حل تلاش کرنا صرف انہی لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہیں ۔ اور جب حل مل جائے تو قیل وقال نہ کیجئے بلکہ سرتسلیم خم کر دیجئے ۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵۱) (پ۱۸، النور:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب قرآنِ کریم اور سنتِ رسولِ کریم سے جھگڑے کا حل مل جائے تو اسے مان لینا حقیقی مسلمان ہونے کی علامت ہے اور جو لوگ قرآن و سنت کے فیصلوں سے انحراف کرتے ہیں ان کے دلوں میں نفاق پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۴۸) وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ(۴۹) اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗؕ-بَلْ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠(۵۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع