30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے والے ) تین طرح کے ہوتے ہیں:ایک جنتی اور دو دوزخی ۔ پس جنتی وہ ہے جو حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرے اور جو قاضی حق جان لے مگر فیصلہ میں ظلم کرے وہ دوزخی ہے اور جو جہالت پر (یعنی حق و ناحق کی تحقیق کے بغیر) لوگوں کے فیصلے کرے وہ بھی دوزخی ہے ۔ ‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الاقضیۃ، باب فی القاضی یخطیٔ، الحدیث:۳۵۷۳، ج۳، ص۴۱۸)
ایک روایت میں ہے کہ روزِ قیامت تمام حاکموں کو لایا جائے گا، ان میں عادل بھی ہوں گے اور ظالم بھی ۔ یہاں تک کہ جب وہ سب پل صراط پر کھڑے ہو جائیں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تم میں سے بعض میرے محبوب ہیں ۔ ‘‘ (وہی بحفاظت پل صراط سے گزر پائیں گے ) اور جو حاکم اپنے فیصلے میں ظلم کرنے والا، رشوت لینے والا یا مقدمے کے فریقین میں سے کسی ایک کی بات زیادہ توجہ اور دھیان سے سننے والا ہو گا وہ ستر سال تک دوزخ کی گہرائی میں گرتا چلا جائے گا ۔ اس کے بعد ایسے حاکم کو لایا جائے گا جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مقرر کردہ سزاؤں سے زیادہ کسی کو سزا دی ہو گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے دریافت فرمائے گا: ’’لِمَ ضَرَبْتَ فَوْقَ مَا اَمَرْتُکَ؟‘‘ تو نے میرے حکم سے زائد کیوں سزا دی؟ عرض کرے گا: ’’غَضِبْتُ لَکَ ۔ ‘‘ اے باری تعالیٰ! مجھے تیری خاطر غصہ آ گیا تھا ۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’کیا تیرا غصہ میرے غضب سے زیادہ سخت تھا؟‘‘ اس کے بعدایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے حدود کے نفاذ میں کمی کی ہو گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پوچھے گا: ’’اے میرے بندے ! لِمَ قَصَّرْتَ؟ تو نے سزا میں کمی کیوں کی؟ عرض کرے گا: ’’اے پروردگار! مجھے اس پر رحم آ گیا تھا ۔ ‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’کیا تیری رحمت میری رحمت سے بڑھ کر تھی؟‘‘ (جامع الاحادیث للسیوطی، الحدیث: ۲۸۲۱۷، ج۹، ص۲۳۴)
حضرت سَیِّدُنا امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفسیر کبیر میں ایک حدیثِ پاک نقل فرمائی ہے کہ ’’قیامت کے دن ایک ایسے حاکم کو بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا جائے گا جس نے حد میں ایک کوڑے کی کمی کی ہو گی ۔ اس سے پوچھا جائے گا:’’لِمَ فَعَلْتَ ذَاکَ؟‘‘تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا:’’رَحْمَۃً لِّعِبَادِکَ ۔ ‘‘ تیرے بندوں پر رحمت اور شفقت کرنے کے لئے ۔ تو اسے کہا جائے گا: ’’اَ نْتَ اَ رْحَمُ بِہِمْ مِنِّیْ؟‘‘ کیا تو مجھ سے زیادہ ان پر رحم کرنے والا ہے ؟ فَیُؤْمَرُ بِہٖ اِلَی النَّارِ ۔ پس اسے دوزخ میں پھینک دینے کا حکم دیا جائے گا ۔ پھر ایسے حاکم کو بارگاہِ الہٰی میں پیش کیا جائے گا جس نے مقررہ حد سے ایک کوڑا زیادہ مارا ہو گا ۔ اس سے اس کی وجہ پوچھی جائے گی: ’’لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ؟‘‘ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو عرض کرے گا:’’لِیَنْتَہُوْا عَنْ مَعَاصِیْکَ ۔ ‘‘ اے باری تعالیٰ! میں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ لوگ تیری نافرمانی سے باز آ جائیں ۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’اَنْتَ اَحْکَمُ بِہٖ مِنِّی؟ ‘‘ کیا تو مجھ سے بہتر حکم کرنے والا ہے ؟ فَیُؤْمَرُ بِہٖ اِلَی النَّارِ ۔ پھر اسے بھی آگ میں پھینکے جانے کا حکم دیا جائے گا ۔ (التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی، سورۃ النور، تحت الایۃ:۲، الجزء الثالث والعشرون، ج۸، ص۳۱۷)
دار الافتاء سے رجوع کرنے کا مشورہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ معاملات نجی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں اگر آپ کے پاس ایسے معاملات آئیں جن کا تعلق گھریلو امور، طلاق، جائدادیا کاروبار وغیرہ سے ہو تو ایسی صورت میں ان فریقین کی علمائے اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف راہنمائی فرما دیں کہ یہ ان فیصلوں کی نزاکت اور انداز کو بہتر سمجھتے ہیں ۔
الحمد للّٰہ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ، اِن تمام اُمور کو بحسن وخوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کے تحت بہت سے شعبہ جات خدمت دین کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان میں سے ایک شعبہ ’’دار الافتاء اہلسنت ‘‘ بھی ہے ، یہ دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرامکَثَّرَہُمُ اللہُ تَعَالٰیپر مشتمل ہے اور اس کا کام عوام الناس کی شرعی راہنمائی کرنا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع