30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک شخص حضرت سیِّدُنا سَحْنُون مالکی ([1]) عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک مسئلہ پوچھا ۔ مگر آپ نے اسے فوراً جواب نہ دیا، وہ شخص لگاتار حاضرِ خدمت ہوتا رہا اور آخر تیسرے دن عرض کرنے لگا: ’’جناب! آج تیسرا دن ہے ۔ ‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’اے میرے دوست! میں کیا کر سکتا ہوں؟ تمہارا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے ۔ اس کے بارے میں بہت سے اقوال مروی ہیں اور میں حیران ہوں کہ کس قول کو ترجیح دوں ۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’حضرت!اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سلامتی و صحت عطا فرمائے ! آپ تو ہر پیچیدہ مسئلہ حل کرنے والے ہیں ۔ ‘‘ حضرت سَحنونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا: ’’اے نوجوان! ایسی باتیں نہ کرو ۔ کیونکہ میں تمہاری خاطر اپنے جسم کو آگ میں نہیں جھونک سکتا ۔ جو جانتا نہیں اس سے زیادہ کوشش بھی نہیں کر سکتا ۔ اگر صبر کرو تو مجھے امید ہے کہ تمہارے مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے گا اور اگر میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس اس مسئلہ کے حل کے لئے جانا چاہتے ہو تو جاؤ، چلے جاؤ وہ تمہیں ایک لمحہ میں اس کا حل بتا دے گا ۔ ‘‘ تو اس نے فوراً عرض کی: ’’جناب! میں تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، مجھے اس مسئلہ کے حل کے لئے کسی دوسرے کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ۔ ‘‘ پس آپ نے اسے صبر کی تلقین کی اور پھر اس کا مسئلہ بھی حل کر دیا ۔ (ادب المفتی والمستفتی لابن صلاح، ص۱۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت سے ہمیں دو مدنی پھول ملتے ہیں ۔ ایک مسئلہ پوچھنے والے کے لئے اور دوسرا مسئلے کا حل بتانے والے کے لئے ہے :
مسئلہ پوچھنے والے کے لئے مدنی پھول یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کسی اہل اسلامی بھائی کی خدمت میں ہی اس کے حل کے لئے حاضر ہو اور غیر اہل کے پاس کبھی نہ جائے ۔ اور حضرت سَحنون مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے عمل سے حل بتانے والے کے لئے یہ مدنی پھول ملتا ہے کہ مسئلہ کسی بھی نوعیت کا ہو کبھی بھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے اور حق بات جاننے کے لئے اس کی تمام جزئیات پر خوب غوروفکر کرنا چاہئے ۔ کہیں غلط حل بتانے کی وجہ سے جہنم کی آگ کا حقدار نہ ہونا پڑے ۔
{9} غصے میں فیصلہ نہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی سبب سے طبیعت بے چین اور مضطرب ہونے یا غصہ وغیرہ کی کسی بھی ایسی حالت میں فیصلے سے گریز کرناچاہئے جو حق ونا حق کے درمیان رکاوٹ بن سکتی ہو ۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ارشاد فرمایا کہ سجستان کے قاضی عُبَیْدُ اللّٰہ بن ابی بکرہ کو مکتوب لکھو کہ کبھی بھی غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے صاحبِ حِلْم وحِکَم، رسول مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’کوئی شخص دو بندوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب کراہۃ القاضی وھو غضبان، الحدیث:۱۷۱۷، ص۹۴۵)
{10} کسی فریق کا حق ضائع نہ ہو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فیصلہ کرتے ہوئے ہمیشہ یاد رکھئے کہ کسی فریق کا حق ضائع نہ ہو ۔ ہمیشہ عدل کا دامن تھامے رہیں کہ عدل سے کام لینا جنت میں لے جانے والا اور فیصلہ میں ناانصافی کرنا جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ چنانچہ،
حضرت بریدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ آقائے مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا فرمان عالیشان ہے : ’’قاضی (یعنی فیصلہ
[1] آپ کا اصل نام ابو سعید عبدالسلام بن سعید تنوخی (المتوفٰی ۲۴۰ ھ ) ہے اور سحنون لقب ہے ۔ آپ نے حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں رہ کر بیس سال تک علمی خزانے جمع کرنے والے حضرت عبدالرحمن بن قاسم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے علمی فیضان حاصل کیا ۔ اور پھر مغرب میں حضرت امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مذہب کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ (ادب المفتی والمستفتی لابن صلاح، ص۱۵) آپ قیروان کے قاضی بھی تھے ۔ بہت زیادہ عقلمند و دانا انسان تھے ، انتہائی متقی و پرہیزگار تھے اور عوام میں آپ کی جودوسخاوت کا شہرہ تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے کہ دنیا کو چاہنے والا انسان ایک اندھے کی مثل ہوتا ہے اور علم کی روشنی بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔ (سیر اعلام النبلاء، ج۱۰، ص۷۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع