دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faisla karnay kay Madani Phool | فیصلہ کرنے کے مدنی پھول

book_icon
فیصلہ کرنے کے مدنی پھول

کی خدمت میں عموماً ایسا جو معاملہ بھی پیش ہوتا وہ اپنے گھر میں ہی اس کا فیصلہ فرمایا کرتے ۔ چنانچہ، جب دونوں حضرات سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی مخصوص نشست سے ہٹ کر عرض کی: امیر المومنین یہاں تشریف لائیے ۔ تو امیر المومنین حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ تمہارا پہلا ظلم ہے جو تم نے فیصلہ میں کیا ہے ۔ میں اپنے فریق کے ساتھ بیٹھوں گا ۔ چنانچہ، دونوں حضرات حضرت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے بیٹھ گئے اور ساری صورتِ حال بیان کر دی تو انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا کہ ابی بن کعب کو حق حاصل ہے کہ وہ امیر المومنین سے قسم لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں مگر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قسم کھا لی اور پھر سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے قسم لی کہ وہ اس وقت تک کسی جھگڑے کا فیصلہ نہ کریں گے جب تک کہ اُن کے نزدیک حضرت عمر اور دوسرا مسلمان برابر نہ ہو جائے ۔ یعنی جو شخص مدعی اور مدعا علیہ میں اس قسم کی تفریق کرے وہ فیصلہ کا اہل نہیں ۔ (تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم ۲۲۳۱ زید بن ثابت، ج۱۹، ص۳۱۹)

{6} ہر فریق کی بات توجہ سے سنئے

آدابِ فیصلہ میں سے یہ بھی ہے کہ فریقین میں سے جس طرح ایک کی بات سنی جائے تو اسی طرح بڑی توجہ سے دوسرے کی بات بھی سنی جائے ۔ چنانچہ،

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ مجھے حضور نبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا، تو میں نے عرض کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ مجھے بھیج تو رہے ہیں مگر میں کم عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم بھی نہیں ہے ۔ (لہٰذا اس امر میں میری اِعانت بھی فرمائیے !) تو سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے دل کو ہدایت دے گااور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا ۔ (دھیان رکھنا کہ) جب فریقین تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ دونوں کی باتیں نہ سن لو ۔ کہ یہ طریقہ کار تمہارے لئے فیصلہ کو واضح کر دے گا ۔ ‘‘

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی مجھے کسی فیصلہ میں تردّد نہ ہوا ۔

(ابو داود، کتاب القضاء، باب کیف القضاء، الحدیث:۳۵۸۲، ج۳، ص۶۳)

{7} فیصلہ میں جلدبازی نہ کیجئے

آداب فیصلہ میں سے اہم ترین یہ ہے کہ فیصلہ میں جلدی نہ کرے ۔ کیونکہ جلدبازی کا انجام برا ہوتا ہے ۔ چنانچہ،

سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے کہ کسی کام میں توقف کرنا (جلدبازی سے کام نہ لینا)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۔ (سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی التأنی والعجلۃ، الحدیث:۲۰۱۹، ج۳، ص۴۰۷)

صحابی رسول کی حکایت:

اسی طرح مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو شخص باب کندہ کی جانب سے داخل ہوئے ۔ اس وقت کچھ انصار دائرے کی صورت میں تشریف فرما تھے ، جن میں حضرت سیِّدُنا ابو مسعود انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی شامل تھے ۔ چنانچہ، ان دونوں میں سے ایک نے انصار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ کیا کوئی شخص ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کر دے گا؟ تو ایک شخص فوراً بولا ہاں ادھر میرے پاس آؤ ۔ تو اس کی یہ بات سن کر سیِّدُنا ابو مسعود انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کنکریوں کی مٹھی بھر کر اسے ماری اور فرمایا کہ (فیصلہ میں جلدی کرنے سے ) رک جاؤ ۔ کیونکہ آپ فیصلہ میں جلد بازی کو ناپسند فرماتے تھے ۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب آداب القاضی، باب کراہیۃ طلب الامارۃ والقضاء--- الخ، الحدیث:۲۰۲۵۲، ج۱۰، ص۱۷۳)

{8} خوب تحقیق سے کام لیجئے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن