30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صُلْح خوب اور بہتر ہے :
ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صلح کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :
وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ-وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ- (پ۵، النساء:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اورصلح خو ب ہے ، اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات فریقین کے نزاع کو ختم کر کے صلح کروانا بہت زیادہ سود مند ہوتا ہے ۔ کیونکہ فریقین میں سے ایک کے حق میں فیصلہ ہو جانے کی صورت میں دوسرے کے دل میں عداوت و کینہ اور بغض و حسد وغیرہ جیسی بیماریاں جڑ پکڑ لیتی ہیں ۔ جن کا ازالہ آسانی سے ممکن نہیں ہوتا ۔ چنانچہ، امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کہ فریقینِ مقدمہ کو واپس کر دو تاکہ وہ آپس میں صلح کر لیں کیونکہ معاملہ کا فیصلہ کر دینا لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے ۔ ‘‘ (السنن الکبری للبیہقي، کتاب الصلح، باب ماجاء فی التحلل ۔ ۔ ۔ إلخ، الحدیث:۱۳۶۰، ج۶، ص۱۰۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مشتبہ امور میں قاضی کے لئے مناسب یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرے بلکہ ایک دو مرتبہ فریقین کو واپس لوٹا دے تا کہ وہ خوب غوروفکر کر کے آپس میں صلح کر لیں کیونکہ صلح سے آپس میں پیار و محبت کی فضا قائم رہتی ہے اور دلوں میں بغض و کینہ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور اگر فریقین صلح پر راضی نہ ہوں تو قاضی کو چاہئے کہ حق کے موافق فیصلہ کر دے ۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الصلح، ج۱۰، ص۱۴۸ ملتقطاً)
میاں بیوی میں صُلْح کرا دیجئے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ایسی ناچاقی زوجین میں پیدا ہو کہ جس کا حل وہ آپس میں طے نہ کر سکیں تو مرد کو طلاق میں جلد بازی سے کام لینا چاہئے نہ عورت کو خلع میں ۔ اور انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ جھگڑے کے حل کے لئے کورٹ کچہری جانا پڑے نہ کسی عام مجلس میں ۔ بلکہ اپنے عزیز و اقارب میں سے ایسے دو افراد کا انتخاب کریں کہ جو شریعت کی سوجھ بوجھ بھی رکھتے ہوں اور ان کے جھگڑے کو
خوش اسلوبی سے حل کر کے ان کے درمیان صلح کرا دیں ۔ چنانچہ،
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا(۳۵) (پ۵، النساء:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کراناچاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نور العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ شوہر اور بیوی میں صلح کرادینا بہترین عبادت ہے ۔ ایسے ہی مسلمانوں میں صلح کرانا بہت اچھا ہے ۔ (نور العرفان، پ۵، النساء:۳۵)
نَفلی صلوۃ و خیرات سے افضل کام:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’ناچاقیوں کا علاج‘‘ صَفْحَہ 35تا37 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادریدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا اِصْلَاح بَیْنَ النَّاس (یعنی لوگو ں کے درمیان صلح کرانے کے حکم) کے مطابق عمل کرنا ایک انتہائی عظیم مدنی کام ہے ۔ اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اتنا خوش ہوتا ہے کہ نفلی نماز، روزے اور صدقہ دینے سے بھی نہیں ہوتا ۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع