30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توقف فرمایا، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابنِ اُبَیْ نے ناک بند کرلی ۔ حضرت عبداللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے ، حضور تو تشریف لے گئے ، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرا دی ۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرات، تحت الایۃ:۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس سے معلوم ہوا کہ اگر دو اسلامی بھائیوں میں کسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہو جائے تو ان میں صلح کرا دینا میٹھے میٹھے مدینے والے مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت مبارکہ ہے ۔ اور یہ بھی جان لیجئے کہ صلح کرانا صرف ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہی سنت نہیں بلکہ ہمارے پیارے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ،
2 صُلح کروائے گا:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’ناچاقیوں کا علاج‘‘ صَفْحَہ 30تا32 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ایک رو ز سرکارِ دوعالم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما تھے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تَبسُّم فرمایا ۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرمیرے ماں باپ قربان! آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کس لئے تبسم فرمایا؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میرے دو اُمتیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دوزانُو گر پڑیں گے ، ایک عرض کر ے گا: ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اِس سے میرا اِنصاف دلا کہ اِس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ مُدَّعِی (یعنی دعویٰ کرنے والے ) سے فرمائے گا: ’’اب یہ بے چارہ (یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ) کیا کرے اس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں ۔ ‘‘ مظلوم (مُدَّعِی) عرض کرے گا: ’’میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈالدے ۔ ‘‘ اِتنا ارشاد فرما کر سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رو پڑے ۔ فرمایا: ’’وہ دن بہت عظیم دن ہوگا ۔ کیونکہ اس وقت (یعنی بروزِ قِیامت) ہر ایک اس بات کا ضرورت مند ہو گا کہ اس کا بوجھ ہلکا ہو ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّمظلوم سے فرمائے گا: ’’دیکھ تیرے سامنے کیا ہے ؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’اے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے آراستہ ہیں ۔ یہ شہر اور عمدہ محلات کس پیغمبر یا صدیق یا شہید کے لئے ہیں؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’یہ اس کے لئے ہیں جوان کی قیمت ادا کرے ۔ ‘‘ بندہ عرض کرے گا: ’’ان کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’تو ادا کر سکتا ہے ۔ ‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’وہ کس طرح؟‘‘ 2 فرمائے گا: ’’اس طر ح کہ تو اپنے بھائی کے حقوق معاف کر دے ۔ ‘‘ بندہ عرض کرے گا: ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے سب حقوق معاف کئے ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور دونوں اکٹھے جنت میں چلے جاؤ ۔ ‘‘ پھر سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالک ومختار، شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو اور مخلوق میں صلح کرواؤ کیونکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی بروزِ قِیامت مسلمانوں میں صلح کروائے گا ۔ ‘‘ (المستدرک، الحدیث:۸۷۵۸، ج۵، ص۷۹۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کی سنت الٰہیہ اور صلح کی تر غیب دلانے کی سنت مصطفویہ کی مقد س ومشکبار خوشبو ؤں سے مہک رہی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کر ے ہم بھی اس سنت خوشبو دار سے اپنے ظاہر وبا طن کو معطر ومعنبر کر کے اسلامی بھائیوں میں بھائی چار گی کی بھر پور سعی کریں اور اپنے ماحول کو صلح وخیر کی خوشبوؤںسے مہکتا گلزار بلکہ مدینے کا باغ سدا بہار بنا دیں ۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع