30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانور کے حلال ہونے کی شرائط کا ذکر تنویر الابصار و در المختار میں یوں ہے: ”( وشرط كون الذابح مسلما۔۔۔أو كتابيا ) ۔۔۔يعقل التسمية والذبح ) ويقدر۔۔۔وفيها ( وتشترط ) التسمية من الذابح ( حال الذبح )“ یعنی ذابح کا مسلمان یا کتابی ہونا شرط ہے اور یہ کہ وہ ایسا ہو ،جو نام الہی لینے اور ذبح کرنے کا شعور بھی رکھتا ہو، نیز وہ ذبح پر قادر بھی ہو اور فتاوی بزازیہ میں ہے کہ ذابح کا وقتِ ذبح تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔ ملخصا۔ (1)
جانور اسی وقت حلال ہوتا ہے،جب ذکاۃ کا عمل کوئی انسان کرے ورنہ حلال نہیں ہوتا ، جیساکہ مبسوط سرخسی میں ہے:” التذكية إنما تكون موجبا للحل إذا حصل من الآدمي “یعنی تذکیہ (ذبح) اسی وقت حلال ہونے کا موجب ہوتا ہے ،جب وہ انسان کے فعل سے واقع ہو۔(2)
یونہی علامہ زیلعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:” الشرط أن يذبحه إنسان أو يجرحه وبدون ذلك لا يحل “ترجمہ: شرط یہ ہے کہ انسان اس کو ذبح کرے یا اس کو زخم لگائے ،اس کے بغیر وہ حلال نہیں ۔(3)
اسی وجہ سے علماء لکھتے ہیں کہ اگر کسی جگہ رکھے ہوئے تیر کو زور دار ” ہَوا “ کی قوت نے اٹھا کر جانور کو لگا دیا ،تو یہ جانور حلال نہیں ہوگا، کیونکہ یہ” ہَوا“ کے فعل سے ہواہے اور ”ہَوا“ کا فعل شرعی تذکیہ نہیں ۔ یونہی فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان نے تیر چلایا اور” ہَوا“ نے اس تیر کا رخ بدل دیا اور وہ شکار کو لگا ،تو یہ شکار حلال نہ ہوگا ،کیونکہ یہ”ہَوا “کے فعل سے ہوا ۔
چنانچہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :” سهم موضوع في موضع حمله الريح
[1] … ۔ در المختار شرح تنویر الابصار، صفحہ640- 641، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
[2] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 222، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
[3] …۔تبیین الحقائق، جلد6، صفحہ226، مطبوعہ المطبعۃ الكبرى الامیریہ، قاھرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع