30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بجلی نہ آ رہی ہو،تو اب انسان لاکھ بار بٹن دبا لے ،تب بھی مشین نہیں چلے گی اور جانور ذبح نہیں ہوگا۔یہ امور اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ مشینی ذبیحہ میں ذبح کا فعل اس انسان کا فعل نہیں، بلکہ بجلی کی قوت کا فعل ہے ۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی،تو اس سے مشینی ذبیحہ کا حکم بھی واضح ہوگیا کہ یہ حرام اور مردار ہے ،کیونکہ ذبح درست ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا کوئی عقل رکھنے والا اہل انسان ( یعنی مسلمان یا اہل کتاب) ہو،یوں کہ وہ اپنی ذاتی قوت کے ساتھ ذبح کرے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرے اور ظاہر ہے کہ بجلی جو یہاں ذبح کا فعل کر رہی ہے ،اس میں یہ شرائط پوری نہیں ہو رہیں ، اس لیے ایسا ذبح شدہ جانور حرام و مردار ہے ۔
متعلقہ جزئیات اور فقہاء کا کلام ملاحظہ فرمائیں
ذبح اختیاری و اضطراری کی شرائط بیان کرتے ہوئے علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :” يشترط لذكاة الاضطرار ما يشترط لذكاة الاختيار من قيام أصل الحياة في الحيوان، وكون الآلة جارحة، وكون الذابح يعقل الذبح والتسمية مسلما كان أو كتابيا، وتسمية اللہ تعالى حقيقة أو حكما وكونه يريد به التسمية على الذبح، وتجريد اسم اللہ تعالى عن ذكر اسم غيره “ یعنی اضطراری تذکیہ میں بھی وہی شرائط ہوں گی ،جو اختیاری تذکیہ میں ہیں، یعنی:جانور میں اصلِ حیات (زندگی کی رمق) موجود ہو،آلہ تیز دھار اور زخم کرنے والا ہو،ذبح کرنے والا ذبح کی او رتسمیہ کی عقل رکھنے والا ہو، مسلمان ہو یا اہل کتاب ہو۔ تسمیہ ( بسم اللہ ) کہی جائے،چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً،اور یہ کہ وہ ذبح پر بسم اللہ کہنے کی نیت سے کہے اور اللہ تعالیٰ کے نام کو کسی اور کے نام کے ساتھ نہ ملائے،بلکہ خالصتاً اللہ کا نام بولے۔(1)
[1] …۔فاکھۃ البستان، صفحہ 105-106، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع