30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مشینی ذبیحہ کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مشینی ذبیحہ کا شرعی حکم کیا ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
مشین سے ذبح کیا گیا جانور حرام اور مردار ہے،اسے کھانا ہرگز جائز نہیں، بلکہ سخت حرام و گناہ ہے۔
اس حکم کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مشینی ذبیحہ کے سسٹم میں مشین پر تیز چھرا یا بلیڈ لگا ہوتا ہے ،جو بجلی کی پاور ملنے پر چلنا شروع ہو جاتا ہے اور دوسری طرف کنوئیر بیلٹ کے ساتھ لٹکی ہوئی مرغیاں اس طرف بڑھتی رہتی ہیں اور ذبح ہوتی رہتی ہیں۔ ایک مسلمان شخص مشین کا بٹن دبا کر اسے چلا دیتا ہے اور قریب کھڑا ہو کر بسم اللہ کا ورد کرتا رہتا ہے۔
اس سسٹم میں آلہِ ذبح یعنی مشین پر لگا ہوا چُھرا نہ تو کسی انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور نہ یہ انسان کی قوت سے چلتا ہے،بلکہ یہاں انسان کا کام فقط اتنا ہوتا ہے کہ مشین سے بجلی کا رشتہ کٹا ہوا تھا ،اس نے بٹن دبا کر اس رشتے کو جوڑ دیا ۔یوں”مشین تک بجلی پہنچانے“ کا فعل تو اس انسان کی طرف منسوب ہوگا ،لیکن فعلِ ذبح کی نسبت اس انسان کی طرف نہیں ہوگی،بلکہ اس فعلِ ذبح کا اصل فاعل اور مباشِر بجلی شمار ہوگی،جس نے آلہ ذبح چلایا۔ لہذا یہاں ذابح کوئی انسان نہیں، بلکہ یہ بجلی ہی ذابح ہے کہ اسی کی قوت سے آلہ ذبح چلتا ہے ۔حتی کہ بٹن دبانے والا انسان وہاں سے چلا بھی جائے،تب بھی مشین بجلی کی قوت سے جانور ذبح کرتی رہتی ہے۔اور بالفرض اگر سسٹم میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع