30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خودبخود جانور ذبح کر دے ،بلکہ انسان کو خود اسے پکڑنا پڑتا ہے اور جانور کی گردن پر رکھنا پڑتا ہے۔ بس اس کی وجہ سے زیادہ قوت نہیں لگانی پڑتی،بآسانی جانور ذبح ہوجاتا ہے۔
مشینی ذبح کے متعلق علماء پہلے بھی شرعی حکم واضح کر چکے ہیں، البتہ الیکٹرک چھری سے ذبح والا معاملہ جدید (نیا) ہے۔ بہر حال اس کتاب میں ذبح کے ان دونوں طریقوں سے جانور ذبح کرنے کا شرعی حکم ،فقہی دلائل کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذبح کے درست ہونے کی ایک بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ اہلیت رکھنے والا انسان اپنی قوت سے جانور ذبح کرے اور اس ذبح میں کسی ایسے کی قوت شامل نہ ہوئی ہو،جو ذبح کی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہ شرط مذکورہ بالا دونوں طریقوں میں پوری نہیں ہوتی ۔مشینی ذبح میں تو ذبح کا آلہ بجلی کی قوت سے چلتا ہے اور الیکٹرک چھری سے ذبح کرنے میں اگرچہ انسان ہی یہ چھری چلاتا ہے ،لیکن اس میں بھی چھری کا بلیڈ الیکٹرک پاور کی قوت سے حرکت کرتا ہے،تو یوں انسانی قوت کے ساتھ ساتھ الیکٹرک پاور بھی ذبح کے عمل میں شامل ہو جاتی ہے، جبکہ بجلی کا ذابح ہونا درست نہیں ۔ جیسا کہ فقہائےکرام نے ہوا کے زور سے چلنے والے تیر سے ذبح ہونے والے جانور کو حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے مشین سے ذبح کیا جانے والا جانور اور الیکٹرک چھری سے ذبح کیا جانے والا جانور حرام اور مردار ہے اور مسلمان کے لیے اسے کھانا،جائز نہیں ہے۔ دلائل کی تفصیل کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔کتاب میں دونوں موضوعات پر دو الگ الگ فتوے ہیں۔ جن کو اکٹھا کتابی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے۔ امید و دعا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف عوام بلکہ طلباء اور علماء کےلیے مفید ہو ۔
یہ کتاب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کے ذیلی شعبے”حلال ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل“ کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔ اس شعبے کی جانب سے پہلے بھی کئی کتب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع