30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سائنسی ترقی و ٹیکنالوجی کے سبب جہاں اور بہت سارے نئے شرعی مسائل سامنے آئے ہیں، وہیں ذبح کے معاملات میں بھی مشینی اور صنعتی ترقی کے باعث کئی نئے طریقے منظر عام پر آئے ہیں ۔ تاہم دینِ اسلام میں قیامت تک ہر نئی پیش آنے والی صورت کا حکم اسلام کی جامع تعلیمات اور اصول و ضوابط پر مشتمل کامل رہنمائی میں موجود ہے۔جیسے جیسے ہر دور میں نئے مسائل جنم لیتے ہیں ،تو ماہرینِ فقہ اور اصحابِ فتوی ان کا شرعی حکم اُمّت کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔
اس کتاب میں بھی ذبح کے درج ذیل دو طریقوں کے متعلق شرعی رہنمائی پیش کی گئی ہے۔
(1) مشینی ذبح(Machinal Slaughtering)
مشینی ذبح کا طریقہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ مشین پر تیز چھرا یا بلیڈ لگا ہوتا ہے ،جو بجلی کی پاور ملنے پر چلنا شروع ہو جاتا ہے اور دوسری طرف کنوئیر بیلٹ کے ساتھ لٹکی ہوئی مرغیاں اس طرف بڑھتی رہتی ہیں اور ذبح ہوتی رہتی ہیں۔ ایک مسلمان شخص بٹن دبا کر مشین چلا دیتا ہے اور قریب کھڑا ہو کر بسم اللہ وتکبیر کا ورد کرتا رہتا ہے۔ اس سسٹم میں آلہِ ذبح یعنی مشین پر لگا ہوا چُھرا ، نہ تو کسی انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور نہ یہ انسان کی قوت سے چلتا ہے ۔
(2) الیکٹرک چھری(Electric Knife) سے ذبح
الیکٹریکل چاقو/ چھری میں بیٹری لگی ہوتی ہے یا یہ تار کے ذریعے الیکٹرک سپلائی کے ساتھ مربوط ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے اس میں زبردست پاور ہوتی ہے۔ اور جب نارمل چاقو کی طرح آدمی اس کو ہاتھ میں پکڑ کر بٹن دباتا ہے ،تو بلیڈ الیکٹرک پاور کی وجہ سے آگے پیچھے ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے جانور کو تیزی کے ساتھ ذبح کیا جاسکتا ہے اور بہت آسانی کے ساتھ یہ کام ہوجاتا ہے، یہ چھری اس طرح نہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع