30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں سے واضح ہوا کہ حلال جانور بھی انسان کے لیے اسی وقت حلال ہوتا ہے ،جب اسے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذبح کر لیا گیا ہو۔لہذا اگر شریعت کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر کسی طریقے سے جانور ذبح کیا گیا یا ذبح سے پہلے اس کا کوئی حصہ جدا کر لیا گیا ،تو وہ ہمارے لیے مردار و حرام ہے ۔ (1)
علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں ذبح کے درست ہونے کی مختلف شرائط بیان کی ہیں
(۱)ذبح کرنے والا عاقل ہو۔
(۲) ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔
(۳) اﷲ عزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔
(۴)خود ذبح کرنے والا اﷲ عزوجل کا نام اپنی زبان سے کہے ۔
(۵)نام الٰہی(عزوجل)لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو ۔
(۶)ذبح کے وقت غیر خدا کا نام نہ لے۔
(۷)جس جانور کو ذبح کیا جائے ،وہ وقت ذبح زندہ ہو،اگرچہ اس کی حیات کا تھوڑا ہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔(2)
ذبح کا عام طریقہ جو صدیوں سے چلتا آ رہا ہے ،وہ یہی ہے کہ انسان چھری ہاتھ میں لے کر جانور کی گردن میں چلاتا ہے اور یوں گردن کی رگیں کاٹ دیتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں
[1] 2…۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مَا قُطِعَ مِنَ البَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ “ یعنی جو حصہ کسی جانور سے اس حال میں کاٹا جائے کہ وہ زندہ ہو، تو وہ (کٹا ہوا حصہ) مردار ہے۔(سنن الترمذی ، جلد3، صفحہ 145 ، حدیث:1480، مطبوعہ دارالغرب الاسلامی بیروت)
[2] 1…۔ بھار شریعت ،جلد 3 ، حصہ 15 ، صفحہ 313-314 (ملخصا )، مکتبۃ المدینہ ،کراچی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع