30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فأصاب السهم الثاني السهم الأول وأمضاه حتى أصاب الصيد وقتله جرحا ينظر إن كان السهم الأول بحال يعلم أنه لا يبلغ إلى الصيد بدون دفع الثاني فالصيد للثاني لأنه هو الآخذ له حتى لو كان الثاني مجوسيا أو محرما لا يحل وإن كان السهم الأول بحال يبلغ الصيد بدون السهم الثاني فالصيد للأول؛ لأنه هو السابق في الأخذ، وإن كان الثاني مجوسيا أو محرما لا يحل استحسانا؛ لأنه أوجب زيادة قوة في السهم الأول فأوجب الحرمة احتياطا “یعنی اور اگر ایک شخص نے کسی شکار پر تیر پھینکا اور دوسرے شخص نے اسی شکار یا کسی اور پر تیر پھینکا، پس دوسرے تیر نے پہلے تیر کو لگ کر اسے آگے بڑھایا،یہاں تک کہ وہ شکار کو لگا اور زخم دے کر مار ڈالا،تو دیکھا جائے گا:اگر پہلا تیر ایسی حالت میں تھا کہ دوسرے تیر کے دھکے کے بغیر شکار تک نہ پہنچتا، تو شکار دوسرے شخص کا ہوگا، کیونکہ وہی اس کو پکڑنے والا شمار ہوگا ، حتیٰ کہ اگر دوسرا شخص مجوسی یا محرِم(حالتِ احرام میں ) ہو،تو شکار حلال نہ ہوگا اور اگر پہلا تیر ایسی حالت میں تھا کہ دوسرے تیر کے دھکے کے بغیر شکار تک پہنچ سکتا تھا، تو شکار پہلے شخص کا ہوگا،کیونکہ شکار پکڑنے میں وہی سبقت لے گیا، لیکن اگر دوسرا شخص مجوسی یا محرم ہوا،تو استحساناً شکار حلال نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ پہلے تیر کی قوت میں اضافے کا باعث بنا ہے ،لہذا احتیاطاً یہ حرمت کا موجب بن گیا۔(1)
محیط رضوی میں اسی مسئلے کی علت یوں بیان کی:” لان المجوسی اعانہ علی قتلہ۔۔۔ فیتحقق بھذہ الاعانۃ شبھۃ المشارکۃ وشبھۃ المشارکۃ تکفی للتحریم احتیاطا “ ترجمہ: کیونکہ مجوسی نے اس (شکار) کے قتل میں اعانت کی۔۔۔ لہٰذا اس اعانت کی وجہ سے ذبح کے عمل میں مجوسی کی شرکت کا شبہ پیدا ہوگیا اور شرکت کا شبہ احتیاطاً حرمت کے لیے کافی ہوتا ہے۔(2)
[1] …۔تبیین الحقائق، جلد6، صفحہ 61، مطبوعہ المطبعۃ الکبری الامیریہ، مصر
[2] …۔محیط رضوی، جلد6، صفحہ22 ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع