30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس صورت میں شکار شدہ جانور کھانا،جائز نہیں ہوگا،اِلّا یہ کہ وہ سبب ایسا ہو،جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جانور کے تلف ہونے میں ایسا سبب شامل ہونے کا احتمال ہو کہ جس سے حلت ثابت نہیں ہوتی،تو اس میں حلت اور حرمت دونوں کا احتمال ہو گیا،لہذا احتیاطا جانبِ حرمت کو ترجیح دی جائے گی ۔(1)
ان عبارات سے واضح ہوا کہ تیر میں ہوا کی معاونت اس لیے کالعدم قرار دے دی گئی کہ وہاں ضرورت ہے اور اس سے بچنا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ صورت جس میں ضرورت نہ تھی،اس میں ایسی معاونت کا بھی اعتبار کیا گیا اور جانور کو حرام قرار دیا گیا۔
جیسا کہ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر مسلمان کے تیر چلانے کے بعد کسی مجوسی نے بھی تیر چلا دیا اور مجوسی کا تیر مسلمان کے تیر کو یوں لگا کہ تیر کا رُخ تو تبدیل نہیں ہوا،بلکہ اس کی وجہ سے فقط مسلمان کے تیر کی قوت میں اضافہ ہوگیا اور پھر اس تیر سے کوئی جانور شکار ہوا،تو یہ شکار شدہ جانور حلال نہیں ہوگا،کیونکہ شکار میں غیر اہل شخص یعنی مجوسی کی قوت شامل ہوگئی۔یہاں تک علماء نے لکھا کہ اگرچہ مسلمان کے تیر میں اتنی قوت تھی کہ مجوسی کے تیر کا دھکا نہ بھی لگتا،تو بھی اس تیر سے جانور شکار ہو جانا تھا،تب بھی یہ جانور حلال نہیں ہوگا،کیونکہ حلت کے سبب کے ساتھ غیر اہل کی قوت شامل ہونا سببِ حرمت ہے اور احتیاطاً اسی کو غلبہ ہے۔(اگرچہ اس صورت میں شکار شدہ جانور مسلمان کا ہی شمار ہوگا،کیونکہ شکار کا اصل سبب مسلمان تیر انداز کی قوت ہی تھی۔)
تبیین میں ہے:” ولو رمى سهما إلى صيد ورمى رجل آخر إلى ذلك الصيد أو غيره
[1] …۔بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ 58، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع