30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صرف اس کی مدد کی اور ہوا کی مدد ایسی چیز ہے، جس سے بچنا ممکن نہیں،لہذا یہ ملحق بالعدم ہے یعنی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر ہوا بہت تیز اور شدید تھی اور وہ تیر کو لگی اور اس نے تیر کو دھکیل کر آگے بڑھایا،لیکن تیر اپنے رُخ سے نہیں ہٹا اور شکار کو لگا،تو وہ شکار حلال ہے، کیونکہ تیر اپنے رُخ پر چلتا رہا اور ہوا کی مدد تیر کو اس کے رُخ سے نہ ہٹائے،تو چونکہ اس طرح کی مدد سے بچنا ممکن نہیں ہوتا،اس لیے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔(1)
مفتی نظام الدین رضوی دام ظلہ العالی لکھتے ہیں:”تیر اندازی میں ہوا سے احتراز ممکن نہیں،کیونکہ تیر ہوا میں ہی چلایا جاتا ہے اور زیادہ تر حالات میں شکار تک تیر پہنچانے میں ہوا کی قوت بھی شامل ہو جاتی ہے،اس لیے جب تک ہوا تیر کو اس کی روش سے نہ ہٹائے ،فعل تیر انداز کا ہی مانا جائےگا۔“(2)
اور اصول کے طور پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ کاسانی ایک اور جگہ لکھتے ہیں :”( ومنها ) أن يعلم أن تلف الصيد بإرسال أو رمي هو سبب الحل من حيث الظاهر فإن شاركهما معنى أو سبب يحتمل حصول التلف به والتلف به مما لا يفيد الحل لا يؤكل إلا إذا كان ذلك المعنى مما لا يمكن الاحتراز عنه؛ لأنه إذا احتمل حصول التلف بما لا يثبت به الحل فقد احتمل الحل والحرمة فيرجح جانب الحرمة احتياطا “یعنی (ان شرائط میں سے) یہ بھی ہے کہ یہ معلوم ہو کہ شکار کا تلف ہونا شکاری جانور کو بھیجنے یا تیر مارنے کی وجہ سے ہوا ہے،جو کہ ظاہری طور پر حلت کے اسباب ہیں۔پس اگر ان دونوں (بھیجنے یا مارنے) کے ساتھ کوئی اور سبب یا معنی شامل ہو جائے ، جس سے شکار کے تلف ہونے کا احتمال ہو اور وہ سبب ایسا ہو،جس سے حلت حاصل نہیں ہوتی،تو
[1] …۔بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ 56، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
[2] …۔مشینی ذبیحہ کا حکم، صفحہ 54، مطبوعہ مکتبہ برکات المدینہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع