30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والی چیز ہے،لیکن جب عملِ ذبح میں اس کی قوت کا دخل ہوگا،تو اب یہ بھی ذابح کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور اس کا فعل چونکہ شرعی تذکیہ/ذبح نہیں،اس لیے یہ ذبح کے درست نہ ہونے کا سبب بنے گا۔
اشکال:
” ہَوا “ کی جو آپ نے مثال دی ، یہ تو وہ صورت ہے،جب ہوا نے تیر کو اس کے رخ سے دائیں بائیں یا پیچھے کی طرف پھیر دیا ۔لیکن فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر ” ہَوا “ نے اس تیر کا رخ نہ پھیرا،بلکہ فقط اس کی قوت میں اضافہ کیا اور تیر سیدھا چلتا رہا،تو اب اگرچہ ہوا کی قوت کا دخل ہوا ہے،تب بھی جانور حلال ہی شمار ہوگا۔
چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے:” وما دام يمضي في جهته فالريح يزيده في قوته، فلا ينقطع به حكم إضافة القوة إلى الرامي “یعنی جب تک تیر اپنی اصل سمت میں جا رہا ہو،تو ہوا صرف اس کی قوت میں اضافہ کرتی ہے،لہذا اس سے تیر کی قوت کا انتساب تیر انداز کی طرف باقی رہتا ہے۔(1)
اسی طرح محیط رضوی اور تبیین میں ہے:” ولو هبت الريح فضربت السهم فزادت في ذهابه فأصاب الصيد فلا بأس بأكله؛ لأن فعل الريح ليس من جنس فعل الرامي فلم يتحقق بهذه الإعانة شبهة الشركة فبقيت الإصابة مضافة إلى الرمي “یعنی اگر ہوا نے تیر کو زور دے کر،اس کی رفتار بڑھا دی اور وہ شکار کو جا لگا،تو اس کا کھانا،جائز ہے،کیونکہ ہوا کا عمل تیر انداز کے عمل کی جنس سے نہیں،لہٰذا اس مدد سے شرکت کا شبہ پیدا نہیں ہوا اور نشانہ لگنے کا انتساب،
[1] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 252، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع