30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشکال
آپ نے جو جزئیات بیان کیے ہیں،اس میں تو دونوں ذابح انسان ہیں،اس لیے ایک اگر اہل نہیں یا اس نے تسمیہ جان بوجھ کر چھوڑی،تو ذبیحہ حرام ہو رہا ہے۔جبکہ الیکٹرک چھری میں دوسر ی چیز کوئی انسان نہیں ہے ،بلکہ وہ تو اختیار اورشعور نہ رکھنے والی چیز بجلی ہے اور ایسی چیز کو ذابح شمار نہیں کرنا چاہیے،بلکہ یہاں فقط اسی مسلمان کو ذابح شمار کرنا چاہیے،جس کے ہاتھ میں چھری ہے اور یوں ذبح درست ہونا چاہیے۔
جواب
اختیار و شعور نہ رکھنے والی چیز بھی ذابح شمار ہو سکتی ہے،جبکہ عملِ ذبح اس کے فعل سے ہوا ہو یا عملِ ذبح میں اس چیز کی قوت شامل ہوئی ہو۔جیسا کہ فقہاء کرام نے فرمایا کہ اگر کسی جگہ رکھے ہوئے تیر کو” ہَوا “ کی قوت نے اٹھا کر جانور کو لگا دیا،تو یہ جانور حلال نہیں ہوگا،کیونکہ یہ ”ہَوا“ کے فعل سے ہُوا ہے اور ” ہَوا “کا فعل شرعی تذکیہ نہیں ۔
چنانچہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:” سهم موضوع في موضع حمله الريح فضربه على صيد فمات، وفعل الريح لا يكون ذكاة الصيد “ یعنی اگر کوئی تیر کسی جگہ رکھا ہوا تھا اور ہوا نے اسے اٹھا کر شکار پر مارا، جس سے وہ مر گیا، تو یہ شکار حلال نہ ہوگا، کیونکہ ہوا کا فعل ذکاۃ شمار نہیں ہوتا۔(1)
یونہی فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان نے تیر چلایا اور” ہَوا“ نے اس تیر کا رخ بدل دیا اور وہ شکار کو لگا،تو یہ شکار حلال نہ ہوگا،کیونکہ اب یہ”ہَوا “کے فعل سے ہُوا ۔
[1] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 252، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع