30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو،اس حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ایک بھی قصدا چھوڑے گا،ذبیحہ مردار ہوجائے گا ’’ لانہ اذا اجتمع المبیح والمحرم غلب المحرم ‘‘(کیونکہ مباح کرنے والی اورحرام کرنی والی دلیلیں جمع ہوں،تو حرام کی دلیل کو غالب کیا جاتاہے۔ ت)(1)
علمائےکرام نے یہاں تک ارشاد فرمایا ہے کہ اگر غیر اہل کی قوت شامل ہونے کا احتمال پیدا ہو جائے،تب بھی وہ جانور حلال نہیں ہوگا،چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے:” ولو أصاب السهم حائطا أو صخرة فرجع السهم وأصاب الصيد فإنه لا يؤكل وهذا لأن الإرسال انقطع فاحتمل أنه حصل بقوة غيره ولا يحل مع الشك “ترجمہ:اگر تیر دیوار یا چٹان سے ٹکرا کر واپس آیا اور پھر شکار کو لگا، تو وہ شکار حلال نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں تیر کا ارسال ( بھیجنا/ پھینکنا) منقطع ہو گیا اور یہ احتمال پیدا ہو گیا کہ شکاراس تیر چلانے والے کے علاوہ کسی اور کی قوت سے تلف ہوا اور شک کی حالت میں حلت ثابت نہیں ہوتی۔(2)
جانور اسی وقت حلال ہوتا ہے،جب ذکاۃ کا عمل کوئی انسان کرے،ورنہ حلال نہیں ہوتا، جیساکہ مبسوط سرخسی میں ہے:” التذكية إنما تكون موجبا للحل إذا حصل من الآدمي “یعنی تذکیہ (ذبح) اسی وقت حلال ہونے کا موجب ہوتا ہے،جب وہ انسان کے فعل سے واقع ہو۔(3)
یونہی علامہ زیلعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:” الشرط أن يذبحه إنسان أو يجرحه وبدون ذلك لا يحل “ترجمہ: شرط یہ ہے کہ انسان اس کو ذبح کرے یا اس کو زخم لگائے،اس کے بغیر وہ حلال نہیں ۔(4)
[1] …۔ فتاوی رضویہ، جلد20، صفحہ221، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاہور
[2] …۔ تحفۃ الفقہاء، جلد3، صفحہ 76،مطبوعہ دار الكتب العلمیہ، بیروت
[3] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 222، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
[4] …۔تبیین الحقائق، جلد6، صفحہ226، مطبوعہ المطبعۃ الكبری الامیریہ، قاہرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع