30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے والا شمار ہوا،تو شیخ امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پر تسمیہ ( بسم اللہ کہنا) واجب ہوگا ۔ لہٰذا اگر ان میں سے کسی ایک نے تسمیہ چھوڑ دی، تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔(1)
مبسوط میں ہے: ”( وإذا عجز المسلم عن مد قوسه وأعانه مجوسي على مده لم يحل الصيد ) لاجتماع الموجب للحظر، والموجب للحل، فإن فعل المجوسي من جنس فعل المسلم فتحققت المشاركة بينهما، كما لو أخذ مجوسي بيد المسلم فذبح، والسكين في يد المسلم “ یعنی اگر کوئی مسلمان اپنی کمان کھینچنے سے عاجز ہوا اور مجوسی نے کمان کھینچنے میں اس کی مدد کی،تو اس کا شکار حلال نہ ہوگا،کیونکہ یہاں شکار کے حرام ہونے کا سبب اور حلال ہونے کا سبب،دونوں جمع ہو گئے ہیں۔اس لیے کہ مجوسی کا فعل مسلمان کے فعل کی جنس سے ہے، لہٰذا ان دونوں کے درمیان شرکت متحقق ہو گئی،جیساکہ اگر کوئی مجوسی مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر ذبح کرے ، جبکہ چھری مسلمان کے ہاتھ میں ہو( تو اس صورت میں بھی ذبیحہ حلال نہ ہوگا)۔(2)
یونہی محیط رضوی میں اس کی علت یوں بیان کی ہے:” لانہ شارکہ فی الذبح لانہ استعمل معہ آلۃ الذبح “ترجمہ:اس کی وجہ یہ ہے کہ مجوسی نے ذبح میں مسلمان کے ساتھ شرکت کی،اس طرح کہ اس نے ذبح کے آلے کو مسلمان کے ساتھ مل کر استعمال کیا۔(3)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”وہ معین ذابح جس پر تکبیر کہنا ضرور ہے،وہ ہے کہ ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو،تنہا اس کی قوت سے ذبح نہ ہوسکتاہو،یہ شخص نفس فعل میں اس کی امداد کرے،اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع
[1] …۔فتاوی قاضیخان،جلد3، صفحہ 243 ، مطبوعہ دارالكتب العلمیہ ، بیروت
[2] …۔المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 251، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
[3] …۔محيط رضوی،جلد 6، صفحہ19، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع