30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتا ہے اور دوسرا سبب بجلی کی قوت کا ذبح کرنا ہے او ریہ سبب ذبیحہ کے حرام ہونے کا تقاضا کرتا ہے (کیونکہ جانور اسی وقت حلال ہوتا ہے،جب ذبح کا عمل کوئی اہل انسان کرے )۔اور اصول یہ ہے کہ جب حلال و حرام دونوں کے اسباب جمع ہو جائیں،تو احتیاطاً حرام سبب کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اب متعلقہ جزئیات ملاحظہ فرمائیں
ذبح میں دو بندوں کی قوت شامل ہو،تو دونوں ذابح شمار ہوتے ہیں اور دونوں کا ذبح کے لیے اہل ہونا اور وقت ذبح دونوں کا تکبیر کہنا ضروری ہے،ورنہ جانور حلال نہیں ہوگا۔ اس پر فقہائےکرام کی درج ذیل عبارات میں صراحت ہے ۔
چنانچہ’’ فاکہۃ البستان ‘‘ میں ہے:” الشرط الثالث منھا ان لا یشارک الذابح ذابح لا یحل ذبحہ حتی لو شارکہ من ھو کذلک لا تحل ذبیحتہ۔۔۔لان کل موضع اجتمع فیہ جھۃ الحل والحرمۃ، غلب فیہ جھۃ الحرمۃ احتیاطاً ‘‘ ترجمہ: ذبح کی تیسری شرط یہ ہے کہ ذابح کے ساتھ کوئی ایسا ذابح شریک نہ ہو،جس کا ذبیحہ حلال نہیں،حتی کہ اگر کوئی ایسا شریک ہوا،تو ذبح حلال نہ ہوگا،کیونکہ ہر وہ مقام جس میں حلت و حرمت کی جہت مجتمع ہو،وہاں احتیاطاً حرمت کی جہت کو غلبہ حاصل ہوتا ہے ۔(1)
فتاوی قاضیخان میں ہے:” رجل أراد أن يضحي فوضع صاحب الشاة يده مع يد القصاب في المذبح و أعانه على الذبح حتى صار ذابحا مع القصاب قال الشيخ الإمام هذا رحمه الله تعالى يجب على كل واحد منهما التسمية حتى لو ترك أحدهما التسمية لاتحل الذبيحة “ ترجمہ:کسی شخص نے قربانی کرنے کا ارادہ کیا اور بکری کے مالک نے اپنا ہاتھ قصاب کے ہاتھ کے ساتھ مذبح پر رکھ دیا اور اسے ذبح میں مدد دی،یہاں تک کہ وہ بھی قصاب کے ساتھ ذبح
[1] …۔فاکھۃ البستان ، صفحہ69-70، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع