30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذبح کرنے والے کو اتنی قوت نہیں لگانی پڑتی،جتنی عام چھری سے ذبح کرتے وقت لگانی پڑتی ہے۔
بلکہ الیکٹرک چھری سے ذبح کے عمل میں بجلی کی قوت ہی غالب ہوتی ہے۔اس کو الیکڑانک آری کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان آری کو لکڑی کے اوپر رکھتا اور سنبھالتا ہے مگر لکڑی کا کٹنا،آری کے بلیڈ کے آگے پیچھے ہونے سے وجود میں آتا ہے۔کوئی بھی ذی شعور یہ نہیں کہے گا کہ یہاں انسان کے پکڑنے اور دبانے سے لکڑی کٹی ہے،کیونکہ بغیر بلیڈ کی حرکت کے فقط آری دبانے سے لکڑی کبھی نہیں کٹ سکتی ۔بعینہ یہی صورت یہاں بھی ہے کہ انسان صرف الیکٹرک چھری کو جانور کی گردن پر رکھے گا یا معمولی قوت سے دبائے گا یا کچھ حرکت دے گا،مگر اصل ذبح کا وجودبلیڈ کی تیز حرکت سے ہوتا ہے اور بلیڈ کی یہ حرکت بجلی کی قوت کی بدولت ہے ۔
بہر حال اگر الیکٹرک چھری سے ذبح کرنے میں انسان اپنی بھی پوری قوت سے ذبح میں حصہ لے،تب بھی ذبح کے عمل میں بجلی کی قوت کی شمولیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،توگویا یہ بات طے ہے کہ یہاں دو ذابح ہیں۔ (1) وہ انسان جس کے ہاتھ میں چھری ہے ۔ (2)الیکٹرک پاور جس کی وجہ سے چھری کا بلیڈ حرکت میں آیا۔
اور شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگرعملِ ذبح دو افراد کی طرف سے ہو،تو ان دونوں کا اہل ہونا اور بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے،ورنہ جانور حلال نہیں ہوگا اور یہاں ایک ذابح تو اہل ہے یعنی مسلمان ہے اور وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام بھی لیتا ہے،لیکن دوسرے ذابح ( الیکٹرک پاور) میں یہ شرائط نہیں پائی جا رہیں،اس لیے یہ ذبح درست نہیں ہوگا۔بالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ذبح میں دو سبب جمع ہو رہے ہیں۔ایک سبب مسلمان کا ذبح کرنا ہے،جو جانور کے حلال ہونے کا تقاضا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع