30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تبیین الحقائق میں ہے: ” وكذا لو أكره مسلم مجوسيا على ذبح شاة فإنه ينتقل الفعل إلى المسلم الآمر في حق الإتلاف فيجب عليه الضمان ولا ينتقل في حق الحل؛ لأنه لا يصلح أن يكون آلة له في حقه؛ لأن الحل في الذبح في الدين “ترجمہ:اسی طرح اگر مسلمان نے مجوسی کو بکری ذبح کرنے پر مجبور کیا، تو تلف کرنے کے اعتبار سے یہ فعل مسلمان آمِر(حکم دینے والے) کی طرف منسوب ہوگا، لہٰذا اس پر ضمان لازم آئے گا، لیکن حلت کے اعتبار سے یہ فعل منتقل نہیں ہوگا؛ کیونکہ مجوسی، اس اعتبار سے ذبح کا آلہ نہیں بن سکتا، اس لیے کہ ذبح کے ذریعے جانور کا حلال ہونا یہ دینی معاملہ ہے ۔(1)
اس مثال کو سامنے رکھ کر ہم غور کریں،تو بعینہ یہی صورت مشینی ذبیحہ والے مسئلے میں بھی ہے کہ جانور کی گردن پر جو چھری چلتی ہے،تو وہ بجلی کی قوت سے ہی چلتی ہے۔ بجلی کی یہ قوت ہی ذبح کے فعل کی اصل فاعل و مباشر ہے۔ لیکن اس بجلی کو چلانے کا سبب وہ انسان بنتا ہے،جو مشین کا بٹن دبا کر بجلی کا منقطع رشتہ، مشین کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔تو جس طرح مجوسی کو مسلمان نے ذبح پر مجبور کیا تھا،وہی کام یہاں مسلمان نے بجلی کی قوت کے ساتھ کیا ہے،جیسے وہاں جانور کے حلال و حرام ہونے کے اعتبا رسے ذابح مسلمان کو نہیں،بلکہ مجوسی کو شمار کیا گیا،یہاں بھی ذابح اسی بجلی کو شمار کیا جائے گا اور بجلی ایسا ذابح ہے،جس کا ذبیحہ حلال نہیں،لہذا مشینی ذبیحہ حرام ہی کہلائے گا۔
یہیں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جب مشین چلانے والا شخص ذابح نہیں ہے،تو ایسے شخص کا پاس کھڑے ہو کر، بسم اللہ کا ورد کرتے رہنا بھی جانور کو حلال نہ کر ے گا،کیونکہ بسم اللہ ، اس کی
[1] …۔ تبیین الحقائق جلد 5، صفحہ 187،مطبوعہ المطبعۃ الكبری الامیریہ، بولاق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع