30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تواس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اس اعتبار سے بھی انسان کو ذابح شمار کرتے ہوئے جانور کو حلال قرار نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ فعل کو اس کے اصل فاعل و مباشر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے،نہ کہ مسبِّب (سبب بننے والے) کی طرف۔ہاں باب الجنایات (جرم و تاوان کے معاملات) میں بعض اوقات خلافِ قیاس سبب بننے والے کو مجرم شمار کر لیا جاتا ہے۔لیکن جانور کو ذبح کرنے کا معاملہ باب الجنایات سے تعلق نہیں رکھتا ،بلکہ یہ حلال و حرام کا خالص دینی معاملہ ہے اور ایسے معاملے میں اصل اصول و قیاس کے مطابق فعل، اصل فاعل و مباشر کی طرف ہی منسوب ہوتا ہے ۔علمائےکرام کے کلام سے اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں ،جس سے اس بات کو سمجھنا آسان ہوگا۔
چنانچہ علمائے کرام لکھتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے مجوسی شخص پر اکراہ کیا(یعنی اسے قتل وغیرہ کی دھمکی دے کر مجبور کیا) کہ وہ کسی کی بکری ذبح کرے اور مجوسی نے بکری ذبح کر دی،تو اس بکری کا تاوان،اس مسلمان پر ہوگا،جس نے مجوسی پر اکراہ کیا اور اسے مجبور کیا،لیکن یہ بکری مردار و حرام ہوگی۔
یہاں دیکھا جائے تو ذبح کے فعل کا اصل فاعل و مباشر تو مجوسی ہی ہے ،لیکن اس کا سبب وہ مسلمان بنا،جس نے مجوسی پر اکراہ کر کے اسے ذبح پر مجبور کیا۔اسی وجہ سے یہاں بکری کا مالک اپنی بکری کا تاوان اس مجوسی سے نہیں لے گا ،بلکہ اس مسلمان سے لے گا،جس نے مجوسی کو ذبح پر مجبور کیا تھا اور وہ مجوسی جسے مجبور کیا گیا،وہ گویا ایک آلے کی حیثیت اختیار کر گیا اور مجبور کرنے والا مسلمان اس آلے کو استعمال کرنے والا ہوا اور فعل اس کی طرف منسوب ہوتا ہے ،جس نے آلہ استعمال کیا،تو یہاں بھی اس مسلمان کے ذمہ تاوان لازم آئے گا ،جس نے مجبور کیا اور مجوسی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع