30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راميه كأنه رماه به “ترجمہ:اگر کسی نے تیر پھینکا اور وہ ایک دیوار پر رکھے ہوئے تیر سے ٹکرایا اور اس سے دوسرا تیر آگے بڑھا اور شکار کو جا لگا اور اسے مار ڈالا، تو وہ شکار حلال ہوگا؛ کیونکہ دوسرا تیر پہلے تیر کے ذریعے چلا، تو وہ تیر چلانے والے شخص کی طرف منسوب ہوگا، گویا اسی نے اس دوسرے تیر کو بھی پھینکا۔(1)
اسی مسئلے کے متعلق البحر الرائق اور تتارخانیہ میں ہے، واللفظ لاول: ” لأن المرفوع إنما ارتفع بقوة السهم الأول فيكون نفوذه بواسطة الأول “ترجمہ:کیونکہ جو دوسرا تیر اٹھا ، وہ درحقیقت پہلے تیر کی قوت سے ہی اٹھا، تو اس کاجانور کو لگنا ،پہلے تیر کے واسطے سے ہوا۔(2)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ آلہِ ذبح انسان کی اپنی قوت سے چلے گا،تو یہ انسان کا فعل شمار ہوگا۔لیکن ظاہر و بدیہی بات ہے کہ مشینی ذبیحہ میں ذبح کے بلیڈ کا چلنا،انسان کی اپنی قوت سے نہیں ہوتا ،بلکہ انسان کی قوت بٹن دبانے تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد آلہِ ذبح کو چلانے والی قوت ، بجلی کی قوت ہوتی ہے۔ لہذا اس طور پر ذبح کا فعل اس انسان کی طرف منسوب نہیں ہوگا ،بلکہ بجلی کی قوت کی طرف منسوب ہوگا۔
سبب بننے کے اعتبار سے انسان کی طرف نسبت کا معاملہ
اور اگریہ کہا جائے کہ مشین میں بجلی کی قوت آنے کا سبب تو وہ انسان ہی بنا ہے ،جس نے مشین کا بٹن دبایا،تو سبب بننے کی حیثیت سے یہ انسان کا فعل ہوگا اور یوں انسان کو ذابح شمار کیا جانا چاہیے ۔
[1] …۔تبیین الحقائق ، جلد 6، صفحہ 61،مطبوعہ المطبعۃ الكبرى الامیریۃ ، بولاق
[2] …۔البحر الرائق،جلد 8، صفحہ 259،مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی/تتارخانیہ،جلد 18، صفحہ 478، مطبوعہ ھند
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع