30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو یہ ذبح بھی اس مشین کو چلانے والے انسان کا ذبح شمار کرنا چاہیے کہ آلہ کا فعل اس کے چلانے والے کی طرف منسوب ہوتا ہے۔بدائع میں ہے:” والركن في الذكاة ۔۔۔ الاضطرارية هو الجرح وذلك مضاف إلى الرامي والمرسل وإنما السهم والكلب آلة الجرح والفعل يضاف إلى مستعمل الآلة لا إلى الآلة “یعنی ذکاۃِ اضطراری میں زخم پہنچانا رکن ہے اور یہ زخم تیر چلانے والے اور شکار پر کتا چھوڑنے والے کی طرف منسوب ہوگا،تیر اور کتا محض زخم پہنچانے کے آلات ہیں اور فعل کا انتساب آلہ کی بجائے ،اس کے استعمال کرنے والے کی طرف ہوتا ہے۔(1)
ازالہ شبہ
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آلہ کا فعل انسان کی طرف اُس وقت منسوب ہوتا ہے ، جب وہ آلہ خالصتاً انسان نے اپنی قوت سے چلایا ہو،جیسے انسان چھری پکڑ کر خود جانور کی گردن پر چلائے ،تو یہاں انسان ہی ذابح قرار پائے گا۔حتی کہ اگر آلہ ذبح میں انسان کی قوت بالواسطہ پہنچی، تو بھی وہ ذبیحہ انسان کا شمار ہوگا،جیسے اگر مسلمان نے تیر چلایا اور یہ تیر،دیوار پر رکھے ہوئے دوسرے تیر کو لگا اور یہ دوسرا تیر جا کر جانور کو لگا ،تو یہ جانور حلال ہوگا،کیونکہ دوسرا تیر جس سے جانور شکار ہوا ، یہ خالصتاً مسلمان کی قوت سے ہی چلا تھا ،اگرچہ یہ قوت پہلے تیر کے واسطے سے اس دوسرے تیر تک پہنچی۔لہذا یہاں ذابح وہی مسلمان ہے،جس نے پہلا تیر چلایا،لیکن جہاں آلہ ذبح،انسان کی قوت کے بجائے کسی اور قوت سے چلا،تو وہ دوسری قوت ہی ذابح شمار ہوگی ،جیسے ہوا کی مثال میں گزرا۔
تبیین میں ہے:” ولو رمى سهما فأصاب سهما موضوعا على حائط فدفعه ومضى السهم الثاني وأصاب صيدا فقتله حل؛ لأن اندفاع السهم الثاني بواسطة الأول فأضيف إلى
[1] …۔ بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ 49، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع