30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی نظام الدین رضوی دام ظلہ العالی لکھتے ہیں:”ان مسائل میں صاحب عقل و شعور مسلمان نے اپنی قوت سے شکار پر آلہ جرح ” تیر “ کو چلایا ہے ،مگر ہوا یا دیوار یا چٹان وغیرہ نے اسے دوسرے رُخ پر پھیر دیا ،تو اب جانور کو زخمی کرنا مسلمان کا فعل نہیں قرار پاتا بلکہ ہوا ، دیوار یا چٹان کا فعل قرار پاتا ہے اور اسی لیے وہ جانور حرام ہو جاتا ہے۔ اور مشین کے نظامِ ذبح میں آلہ ذبح ”چھر ا“ کو مسلمان اپنی قوت سے نہیں چلاتا، بلکہ وہ صرف بجلی کی قوت سے چلتا ہے ،تو یہ ذبح بدرجہ اولیٰ انسان کا فعل نہ ٹھہرے گا،بلکہ صرف بجلی کا فعل ٹھہرے گا۔لہذا جیسے تلوار کسی طرح گر کر جانور کو ذبح کر دے یا ہوا وغیرہ کی قوت سے تیر چل کر جانور کو زخم لگا دے،تو وہ جانور حرام ہو تا ہے،ویسے ہی مشینی ذبیحہ بھی حرام ہو گا۔ یہاں واضح رہے کہ تیر اندازی میں ہوا سے احتراز ممکن نہیں ،کیونکہ تیر ہوا میں ہی چلایا جاتا ہے اور زیادہ تر حالات میں شکار تک تیر پہنچانے میں ہوا کی قوت بھی شامل ہو جاتی ہے ،اس لیے جب تک ہوا تیر کو اس کی روش سے نہ ہٹائے ،فعل تیر انداز کا ہی مانا جائےگا۔“(1)
ان عبارات سے یہ معلوم ہوا کہ ذبح اسی وقت درست ہوتا ہے ،جب عقل و شعور رکھنے والا اہل انسان ذبح کرے۔ اسی وجہ سے علماء نے ”ہوا“کے فعل سے ذبح ہونے والے جانور کو حلال شمار نہیں کیا، تو جس طرح ہوا کے فعل سے ذبح شدہ جانور حلال نہیں ،اسی طرح بجلی کے فعل سے ذبح ہونے والا جانور بھی حلال نہیں ہو سکتا۔
شبہ (مشین جب انسان چلاتا ہے ،تو یہ ذبح انسان کا فعل کیوں نہیں؟)
یہاں ایک شبہ ذہن میں آ سکتا ہے کہ جس طرح چھری سے انسان ذبح کرے،تو وہ انسان کا فعل شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح مشین کو جب انسان ہی چلا رہا ہے، وہ خود بخود نہیں چل رہی ،
[1] …۔مشینی ذبیحہ کا حکم، صفحہ 53-54، مطبوعہ مکتبہ برکات المدینہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع