30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فضربه على صيد فمات، وفعل الريح لا يكون ذكاة الصيد “ یعنی اگر کوئی تیر کسی جگہ رکھا ہوا تھا اور ہوا نے اسے اٹھا کر شکار پر مارا، جس سے وہ مر گیا، تو یہ شکار حلال نہ ہوگا، کیونکہ ہوا کا فعل ذکاۃ شمار نہیں ہوتا۔(1)
مزید لکھتے ہیں:” وإن عرض للسهم ريح فرده إلى ما وراءه فأصاب صيدا لم يؤكل، لأن الإصابة لم تكن بقوة الرامي بل بقوة الريح۔۔۔۔ إذا رده الريح يمنة أو يسرة فقد انقطع حكم هذه الإضافة؛ لأن الرامي لا يحب مضي السهم يمنة أو يسرة فيصير مضافا إلى الريح لا إلى الرامي “ یعنی اگر ہوا نے تیر کا رخ موڑ کر اسے پیچھے کی طرف کر دیا اور وہ کسی شکار کو جا لگا، تو وہ شکار حلال نہ ہوگا، کیونکہ نشانہ تیر انداز کی قوت سے نہیں، بلکہ ہوا کی قوت سے لگا۔جب ہوا تیر کو دائیں یا بائیں موڑ دے، تو تیر انداز کے فعل کی نسبت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ تیر چلانے والا یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا تیر دائیں یا بائیں جانب جائے۔اس لیے تیر کا نشانہ لگنا تیر انداز کے بجائے ہوا کی طرف منسوب ہوگا۔(2)
بدائع میں ہے:” فإن أمالت الريح السهم إلى ناحية أخرى يمينا أو شمالا فأصاب صيدا آخر لم يؤكل؛ لأن السهم إذا تحول عن سننه فقد انقطع حكم الرمي فصارت الإصابة بغير فعل الرامي فلا يحل “ یعنی اگر ہوا نے تیر کا رخ کسی اور جانب، دائیں یا بائیں، موڑ دیا اور وہ کسی دوسرے شکار کو جا لگا، تو وہ شکار حلال نہ ہوگا، کیونکہ جب تیر اپنی اصل سمت سے ہٹ جائے ، تو تیر اندازی کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور نشانہ تیر انداز کے فعل سے نہیں، بلکہ کسی اور سبب سے لگتا ہے، لہٰذا وہ شکار جائز نہیں ہوگا۔(3)
[1] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 252، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
[2] …۔ المبسوط للسرخسی، جلد11، صفحہ 252، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت
[3] …۔ بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ 55،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع