دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ehsaas e Zimmedari | احساس ذمہ داری

book_icon
احساس ذمہ داری

            ’’نگران سے مراد صرف کسی ملک یا شہر یا مذہبی و سماجی و سیاسی تنظیم کا ذمہ دار ہی نہیں بلکہ عموماًہر شخص کسی نہ کسی کا ذمہ دار ہو تا ہے مثلاً مراقب( یعنی سپر وائزر)اپنے ماتحت مزدوروں کا، افسر اپنے کلرکوں کا ، امیرِ قافلہ اپنے قافلوں کا اور ذیلی نگران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کا وغیرہ وغیرہ ۔  یہ ایسے معاملات ہیں کہ ان نگرانیوں سے فراغت مشکل ہے ۔  بالفرض اگر کو ئی تنظیمی ذمہ داری سے مستعفی ہو بھی جائے تب بھی اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بال بچوں کا نگران ہے ۔  اب وہ اگر چاہے کہ ان کی نگرانی سے گلو خلاصی ہو تو نہیں ہو سکتی کہ یہ تو اسے شادی سے پہلے سوچنا چاہئے تھا  ۔ بہرحال ہر نگران سخت امتحان سے دوچار ہے مگر ہاں جو انصاف کرے اس کے وارے نیارے ہیں چنانچہ ارشادِ رحمت بنیاد ہے ، ’’انصاف کر نے والے نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں ، گھر والوں اور جن جن کے نگران بنتے ہیں ان کے بارے میں عدل سے کام لیتے ہیں  ۔ ‘‘(سنن نسائی ج ۴ ص ۲۲۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            مذکورہ بالا تحریر سے واضح ہوا کہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے ، والدین اپنی اولاد کے ، اساتذہ اپنے شاگردوں کے ، شوہر اپنی بیوی کا وغیرہ وغیرہ ۔  لہذا ! ہمیں چاہئے کہ اپنے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کریں اور عدل و انصاف سے کام لے کرشریعت کے احکام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں  ۔

            ذمہ دار اسلامی بھائیو! مندرجہ ذیل مدنی پھولوں پر عمل کر کے ہم اپنی دنیا و آخرت بہتر بناسکتے ہیں  ۔ ان شاء اللہ عزوجل

(۱خود کو ما تحت جا نیں :

                                    یعنی آپ کتنے ہی بڑے ذمہ دار کیوں نہ ہوں اپنے آپ کو ماتحت اور دوسرے اسلامی بھائیوں کو اپنا نگران تصور کریں ۔ پھر جو بات آپ اپنے لئے پسند کر تے ہیں وہی اپنے دیگر اسلامی بھائیوں کے لئے بھی پسند کریں مثلاًہر ماتحت یہ پسند کر تا ہے کہ میرا نگران میرے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئے ، اگرمیں بیمار ہوجاؤں تو میری عیادت کرے ، مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میری مدد کرے ، میراکوئی نقصان ہوجائے تو میری بھر پور دل جوئی کرے ، مدنی کاموں کے سلسلے میں میری عملی طور پر رہنمائی کرے نہ کہ ذرا سی غلطی پرجھاڑنا اور طنز و تنقید کے تیر برسانا شروع کر دے ، وغیرہ ۔ خودکو ماتحت تصور کرنے کی صورت میں آپ کو نہایت آسانی سے  معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے ماتحت اسلامی بھائی آپ سے کس قسم کے سلوک کی توقع رکھتے ہیں ؟

            حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورسرورِکونین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا ، ’’تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے  ۔ ‘‘

  (مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان ان یحب لاخیہ ، رقم ۴۵، ص۴۲)

            مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ’’ تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سائے کی طرف سبقت کر نے والے کون ہیں ؟‘‘ حاضرین نے عرض کی ، ’’یا رسول اللہ عزوجل وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپ خوب جانتے ہیں  ۔ ‘‘فرمایا ، ’’وہ لوگ کہ جب حق دئیے جائیں تو اسے قبول کر لیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو دے دیں اور لوگوں کے لئے اسی طرح فیصلے کریں جس طرح اپنی ذات کے لئے فیصلے کرتے ہیں  ۔ ‘‘( مشکوۃالمصابیح، کتاب الامارۃ والقضاء ، الفصل الثالث ج۲، ص۳۴۱، رقم:۳۷۱۱)

            یعنی اگر کو ئی حق بات سنائے تو اسے قبول کر کے اسکا احسان مانیں اور اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق بخوشی ادا کریں  ۔ اورجب انہیں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو ایسا فیصلہ کریں جیسا فیصلہ خود اپنے لئے یااپنے عزیز کے لئے پسند کر تے ہیں  ۔ سبحان اللہ عزوجل! ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ہمیں کتنا پیارا نظام عطا فرمادیا ، اگر ہر مسلمان اس مدنی نصیحت کا عامل بن جائے تو نہ کسی تنظیم میں انتشار ہو اور نہ کسی ملک میں ہڑتالیں ہوں  ۔ ( ماخوذ من مرأۃ شرح مشکوٰۃ، کتاب الامارۃ والقضاء ، ج۳، ص۳۶۵)

(۲) نرمی اختیار کرتے ہوئے غصہ سے اجتناب کریں :

                                    جو نگران وذمہ دار اسلامی بھائی اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کو جھاڑنے اور ڈانٹنے کا انداز اختیار کرتا ہے ، وہ بہت جلد اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے ۔  یاد رکھئے ! آپ کی ذمہ داری اپنے اسلامی بھائیوں سے نرمی کے ساتھ مدنی کام لینا ہے ۔ بالفرض اگر وہ سستی اور کاہلی کا ثبوت دیں تب بھی آپ نرمی ہی اختیار فرمائیں  ۔ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں دس سال مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِ اقدس میں رہا ، آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ’’ فلاں کام تونے  کیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہ کیا ؟‘‘ ( مسلم، کتاب الفضائل ، باب کان رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم احسن الناس خلقاًص۱۲۶۴، رقم: ۲۳۰۹)

            ہمارے شیخ ِ طریقت ، امیرِ اہل ِ سنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی کا بھی یہی معمول ہے کہ آپ اسلامی بھائیوں کے ساتھ بہت نرمی سے پیش آتے ہیں ۔ جب کسی غلطی کا مرتکب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو تو بھر پور شفقت سے نوازتے ہوئے اس کی ایسی تربیت فرماتے ہیں کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے ، ’’میرا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن