30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انگور ہی خرید لیں ؟‘‘آپ نے فرمایا، ’’ انگور نہ کھانا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ کل میں جہنم کی زنجیریں پہنوں ۔ ‘‘ (تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۸)
ایک مرتبہ اصطبل کے نگران شاہی سواری کا گھوڑا لئے حاضر ہوئے تو آپ نے اس پر سوار ہو نے سے انکار کردیا اور فرمانے لگے ، ’’ میری سواری کے لئے میرا خچر ہی لاؤ، میرے لئے وہی کافی ہے ۔ ‘‘اسی طرح ایک مرتبہ اصطبل کے نگران نے شاہی گھوڑوں کے لئے گھاس اور دانے وغیرہ کا خرچ طلب کیا توآپ نے فرمایا کہ’’ ان گھوڑوں کو بیچنے کے لئے شام کے مختلف شہروں میں بھیج دواور ان کی قیمت میں ملنے والی رقم بیت المال میں جمع کر دی جائے ، میرے لئے میرا خچر ہی کافی ہے ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ، ص ۲۳۴مطبوعہ میر محمد کتب خانہ)
حاکم کا نام محتاجوں کی فہرست میں :
ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حمص کے باشندوں کو ایک مکتوب روانہ کیا اور حمص کے فقراء اور محتاجوں کی فہرست طلب کی تاکہ انہیں عطیات بھیجے جاسکیں ۔ جب وہ مطلوبہ فہرست امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس پہنچی تواس میں سب سے پہلا نام حمص کے نگران (یعنی حاکم) حضرت سیدنا سعید بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تھا ۔ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بڑی حیرت ہوئی کہ ہم تو انہیں مناسب مقدار میں وظیفہ دیتے ہیں ، اس کے باوجود وہ محتاج و مسکین کیوں ہیں ؟آپ کے استفسار پر بتایا گیاکہ’’ جو کچھ آپ یہاں سے روانہ کر تے ہیں ، وہ اسے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فقیروں اور محتاجوں میں تقسیم فرمادیتے ہیں ۔ ‘‘
پھر امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حمص سے آنے والوں سے اُن کے رویہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا، ’’ باقی تو سب ٹھیک ہے مگر ہمیں ان کی چار عادتوں پر اعتراض ہے ۔
{۱} وہ ہمارے پاس دن چڑھنے کے بعد آتے ہیں ۔ …
{۲} رات کے وقت ملاقات نہیں فرماتے ۔ …
{۳} مہینے میں ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ملتے ۔ …
{۴} کبھی کبھی ان پر بے ہو شی کا طویل دورہ پڑتا ہے ۔ …‘‘
جب امیر المؤ منین سیدنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حضرت سیدنا سعید بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہو ئی توآپ نے اُن سے اہلِ حمص کی شکایات کے بارے میں وضاحت چاہی تو حضرت سیدنا سعید بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بطورِوضاحت عرض کی ۔
(1) گھر سے چاشت کے وقت نکلنے کی وجہ یہ ہے کہ میرا کو ئی خادم نہیں ہے جبکہ میری بیوی بیمار ہے ۔ لہذا! نماز ِفجر کے بعد دن چڑھنے تک گھریلو کام کاج میں خودکرتاہوں ۔
(2) رات کے وقت میں لوگوں سے اس لئے ملاقات نہیں کرتا کہ دن بھر میں لوگوں کی خدمات سرانجام دیتا ہوں اوررات کا وقت میں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے وقف کر رکھا ہے ۔
(3) سارے مہینے میں ایک دن گھر سے اس لئے باہر نہیں نکلتا کہ میرے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہے ، جسے میں اُس دن دھوتا ہوں اور خشک ہو نے پر پہن لیتا ہوں ۔ لہذا! اس دن میں لوگوں سے ملاقات نہیں کر سکتا ۔
(4) بے ہو شی کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا خبیب بن عدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میرے سامنے شہید کئے گئے ، میں اس وقت حالت ِ کفر میں تھا ۔ مجھے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل پر چوٹ لگتی ہے اور سینے سے ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش!میں اُس وقت اسلام لاچکا ہو تا اور ان کے دفاع کی کو شش کرتا ۔ یاامیر المؤمنین ! مجھے جب بھی اُن کی یاد آتی ہے تو مجھ پر رنج و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور میرے ہوش و حواس گم ہو جاتے ہیں ۔
یہ گفتگو سن کر سیدنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اِس شدت سے روئے کہ آپ کی ہچکی بندھ گئی ۔ حضرت سیدنا سعید بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہوجانے کے بعدجب بھی ان کا تذکرہ ہو تا تو سیدنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر شدید گریہ طاری ہو جاتا اورآپ ان کے لئے دعائے رحمت و مغفرت کیا کر تے ۔
حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک دن رسولِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو جمع کیا اور انہیں کہا، ’’اپنی اپنی آرزو بیان کیجئے ۔ ‘‘ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا میری آرزو ہے کہ’’ میرے پاس ایک لشکر ہو جسے لیکر میں دشمنانِ اسلام سے جہاد کروں ۔ ‘‘ دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا ، ’’میری آرزو یہ ہے کہ میرے پاس بہت سا مال ہو جسے میں راہ ِ خدا عزوجل میں خرچ کردوں ۔ ‘‘حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع