دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ehsaas e Zimmedari | احساس ذمہ داری

book_icon
احساس ذمہ داری

مُردے کے صدمے ‘‘میں نقل کیا ہے کہ ’’ کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔ تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائیگا ۔ ‘‘ (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۳۷۴)

            پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے اسلاف رضی اللہ عنہم اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کس قدر حُسّاس تھے اور احساسِ ذمہ داری ان میں کس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ؟ اس کا اندازہ ذیل میں دئیے گئے واقعات سے لگائیے ۔  چنانچہ…

 زخمی اونٹ:

                        ایک دن حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنے اونٹ کے زخم کو دھونے میں مصروف تھے  ۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ فرما رہے تھے کہ ’’میں ڈرتا ہوں کہ کہیں قیامت میں مجھ سے اس زخم کے بارے میں پُرسش(پوچھ گچھ) نہ ہوجائے  ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء، فصل فی نبذمن اخبارہ وقضایاہ ، ص۱۱۰)

 گھر کے کام کرد یا کرتے :

            ابنِ عساکر نے حضرت ابو صالح غفاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے روایت کی ہے کہ حضرت سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مدینۃ المنورہ کے اطراف میں رہنے والی ایک نابینا عورت کے گھر کے کام کردیا کرتے اور رات کو( گھڑوں میں )پانی بھر دیا کر تے اور اس کی پوری خبر گیری رکھتے تھے  ۔ (تاریخ الخلفاء ، ص ۶۱)

خوفِ آخرت :

            حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں ایک باغ میں گیا تو میں نے وہاں امیر المؤمنین فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو فرماتے سنا ، ’’ عمر، خطاب کا بیٹا اور امیر المؤمنین کا منصب ، واہ کیا خوب !اے عمر اللہ تعالی سے ڈرتے رہو ورنہ وہ تم کو سخت عذاب دیگا ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ، صفحہ۱۰۲)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

         یہ وہی سیدنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہیں ، جن کے فضائل خود سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمائے ۔  چنانچہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے کہ’’ اللہ عزوجل نے عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے ۔ ‘‘  (ترمذی کتاب المناقب، ج۵، ص۳۸۳)

            یعنی ان کے دل میں جو خیالات آتے ہیں وہ حق ہو تے ہیں اور ان کی زبان سے جو کلمات ادا ہو تے ہیں حق ہو تے ہیں ان کے خیالات و کلام ‘شیطانی یا نفسانی نہیں بلکہ رحمانی ہو تے ہیں ۔

احساسِ ذمہ داری:

                        ایک دن خلیفۃ المسلمین فاروقِ ثانی حضرت سیدناعمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی زوجہ محترمہ نے آپ سے عرض کی، ’’ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے  ۔ ‘‘ تو آپ نے فرمایا ، ’’سنو!جب میں نے دیکھا کہ اس امت کے ہر سرخ و سفید کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے تومجھے فوراًدُور دراز کے شہروں اور زمین کے اطراف و اکناف میں رہنے والے بھوک کے مارے ہو ئے فقیروں ، بے سہارا مسافروں ، ستم رسیدہ لوگوں اور اس قسم کے دوسرے افراد کا خیال آیا اور میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل مجھ سے میری رعایا کے بارے میں باز پُرس فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ان تمام لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دینگے ۔ یہ سوچ کر میرے دل پر ایک خوف طاری ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں میراکو ئی عذر قبول نہیں فرمائے گا اور میں اپنے آقا و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے حضور کسی قسم کی صفائی پیش نہیں کر سکوں گا ۔ یہ سوچ کر مجھے خود پر ترس آتا ہے اور میری آنکھوں سے آنسوئوں کا سمندر امنڈ آتا ہے ۔  اس حقیقت کو میں جتنا یاد کر تا ہوں ، میرا احساس اتنا ہی بڑھتا چلا جاتاہے ۔ ‘‘

            پھر آپ نے اپنے بچوں کی امّی سے مخاطب ہوکر فرمایا، ’’ اب آپکی مرضی ہے اس سے نصیحت حاصل کریں یا نہ کریں  ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء، ص۱۸۹)

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہ ہستی ہیں جنہیں فاروق ِ ثانی کا لقب دیا جاتا ہے اور آپ کے دورِ خلافت کوبھی خلافتِ راشدہ میں شامل سمجھا جاتا ہے ۔  پہلے پہل آپ نہایت عیش وعشرت کی زندگی بسر کیا کرتے تھے لیکن جب آپ منصبِ نگرانی پر متمکن ہو ئے تو تن دہی سے رعایا کی خدمت میں مصروف عمل ہو گئے  ۔ آپ نے اپنی ذات اور ذہن کو مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے وقف کر رکھا تھا ۔  دن بھرمدنی کام میں مصروف رہتے حتی کہ رات ہو جاتی مگر دن کا کام ختم نہ ہو تا، لہذا! رات گئے تک کام کر تے رہتے ۔  جب آپ فارغ ہوجا تے تو اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہوا چراغ منگواتے اور اس کی روشنی میں دورکعت نماز ادا فرماتے ۔ اس کے بعد گھٹنے کھڑے کر کے زمین پر بیٹھ جاتے اور اپنا سر دونوں ہتھیلیوں میں رکھ کر شدید گریہ وزاری فرماتے حتی کہ ساری رات اسی کیفیت میں گزر جاتی جبکہ دن میں آپ روزے سے ہوتے تھے ۔

منصب ملنے پر حیرانی:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن