30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا، ’’آدمی بعض دفعہ ایسی بات کرتا ہے جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، تاکہ لوگوں کو ہنسائے ، تو وہ اس کی وجہ سے آسمان سے بھی دور(یعنی جہنم میں )جا گرتا ہے ۔ ‘‘(مجمع الزوائد ، ج۸، ص۱۷۹، رقم:۱۳۱۴۹ )
امیرِ اہل سنت اور احساسِ ذمہ داری
الحمد للہ عزوجل! اس پُر فتن دور میں بھی ایسی شخصیات موجود ہیں جنہیں دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ انہیں میں سے ایک شخصیت امیرِ اہل سنت ، بانیِٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری مد ظلہ العالی کی ہے ۔ آپ ابتداء ہی سے احساسِ ذمہ داری کی چلتی پھرتی تصویر ہیں ۔ اپنے اہل و عیال کی کفالت کی ذمہ
داریادا کر نے کے لئے پہلے پہل بچوں کے غبارے اور جھاڑو وغیرہ بھی فروخت کئے ، اس کے ساتھ ساتھ آپ تقوی وپرہیز گاری اور عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا حسین امتزاج تھے ، آپ نے اُن دنوں اپنے چہرے پر سنت مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سجائی(یعنی داڑھی آتے ہی رکھ لی)جب چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ سجانا نہایت دشوار سمجھا جاتا تھا، ایسے نامساعد حالات میں آپ نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کو عملی طور پر سنتیں اپنانے کی طرف راغب کر نا شروع کردیا، یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم عالمگیر تحریک کے مدنی کام کا آغاز کر دیا ۔
آپ کو آپکا احساسِ ذمہ داریدور دراز کا سفر کر واتا ، دن میں بسا اوقات ایک سے زائد مرتبہ بیانات کرتے اور بسوں ، ٹرینوں میں اور پیدل سفر کر کے مسجد مسجد ، گائوں گائوں ، شہر شہر خود تشریف لے جاتے ، آپ کے کھانے کا Tiffenساتھ ہو تا یہاں تک کہ نمک کی ڈبیا بھی ساتھ رکھتے ، اپنا پانی تک ساتھ رکھتے کہ کسی سے سوال نہ کر نا پڑجائے ، مریضوں کی عیادت کرتے ، مُردوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیتے اور کفن پہناتے ، نمازِ جنازہ کی امامت فرماتے اور غمی وخوشی کے مواقع پر مسلمانوں کی ایسی دلجوئی فرماتے کہ وہ بھی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے آپ کے شریک ِ سفر بن جاتے ، فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر نفلی عبادتوں ، خوفِ خدا عزوجل اور عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں گریہ وزاری اور ریاضتوں نے آپ کو لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنادیا ۔
دولت مندوں اور اربابِ اقتدار شخصیات سے بے نیازی نے آپ کو مزید ممتاز کر دیا، اہلِ ثروت‘ مال ودولت کے انبار آپ کی ذات کے لئے پیش کر تے مگر آپ منع فرما دیتے ، وقف کے مال کے استعمال میں آ پ کی احتیاط کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں موجود فون کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں اور اگر کبھی استعمال کرنابھی پڑے تو اس کی قیمت اپنی جیب سے ادا کر تے ہیں اورکو شش کر تے ہیں کہ آپ کے پاس اتنا مال جمع ہی نہ ہو جس سے صاحبِ نصاب بن جائیں ، لہذا جب کبھی اتنی رقم جمع ہو جاتی تو فوراً کسی کارِ خیر میں خرچ کر کے ہی دم لیتے ہیں ، آپ کے کردار کی بلندیوں سے متأثر ہوکر سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمان آپ کے ہاتھوں بیعت کر کے حضور سیدنا غوث الاعظم محی الدین سید عبد القادرجیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دامن سے وابستہ ہوچکے ہیں ۔
آپ کے احساسِ ذمہ داری کی برکتیں ’’دعوت ِ اسلامی ‘‘ سے وابستہ ہونے والے اسلامی بھائیوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہوئیں ، جنہوں نے نیکی کی دعوت کی ایسی دھومیں مچائیں کہ لاکھوں نوجوان فیشن کی آفت سے جان چھڑا کر سنتوں کے سانچے میں ڈھل گئے ، اور انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ، ان شاء اللہ عزوجل ۔ ‘‘
آپ مدظلہ العالی نے گویا کہ خود کو مکمل طور پر امت کی خیر خواہی کے لئے وقف کیا ہوا ہے ۔ الحمدللہ عزوجل!یہ آپ ہی کی کو ششوں کا نتیجہ ہے کہ اس مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر)دنیا کے 56ممالک میں پہنچ چکا ہے ۔ ہزاروں مقامات پر ہفتہ وار اجتماعات میں بے شمار مبلغین اصلاح ِ امت کے کاموں میں مصروفِ عمل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’میرا بس چلتا تو میں نیند بھی نہ کر تا کہ اتنا (کثیر)کام کر نا ابھی باقی ہے ۔ ‘‘
یہ آپ کے احساسِ ذمہ داری کا بیّن ثبوت ہے کہ امتِ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جن جن شعبوں کی حاجت تھی ، آپ ان شعبوں کو قائم کرنے میں مصروف ہو گئے اور آج الحمدللہ عزوجل !ان میں سے کئی شعبہ جات میں کام شروع ہوچکا ہے مثلاًمساجد کی تعمیر ات کے لئے ’’خدام المساجد‘‘ ، حفظ و ناظرہ کے لئے ’’مدرسۃ المدینہ‘‘، بالغان کی تعلیمِ قرآن کے لئے ، ’’مدرسۃ المدینہ برائے بالغان‘‘، فتاویٰ کے لئے ’’ دار الافتاء‘‘ ، علماء کی تیاری کے لئے ’’جامعۃ المدینہ‘‘ ، تربیت ِ افتاء کے لئے ’’ تخصص فی الفقہ‘‘ اور امت کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لئے ’’ مجلس تحقیقاتِ شرعیہ ‘‘پیغامِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کو عام کرنے کے لئے ’’مجلس المدینۃ العلمیۃ‘‘، تصانیف وتالیفات کو شرعی اغلاط سے محفوظ رکھنے کے لئے ’’مجلس تفتیش ِ کتب ورسائل ‘‘، ’’روحانی علاج کے لئے ’’ مجلس مکتوبات و تعویذات‘‘، اسلامی بہنوں کو باحیا بنانے کے لئے ان کے ’’ہفتہ وار اجتماعات و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع