30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الدنیا۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۴۲۵، ص۵۴۰)
حضرت سیدناثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، کہ نبی ٔکریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا : ’’ عنقریب تمہارے خلاف ہر جانب سے لوگ اکھٹے ہوجائیں گے جیسے کھانے والے کھانے کے برتن پرجمع ہوتے ہیں ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا اس دن ہماری تعداد کم ہوگی ؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ نہیں ! بلکہ تم تو کوڑے کچرے ہوجاؤ گے جیسے سیلاب کا کوڑا کچرا ہوتا ہے (مراداس سے آخری زمانے کے خراب اور نکمّے لوگ ہیں ) ، دنیا سے محبت اورموت سے نفرت کی وجہ سے تمہارے دل کمزور پڑ جائیں گے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب جاتارہے گا۔ ‘‘ (المسندللامام احمدبن حنبل، الحدیث: ۲۲۴۶۰، ص۳۲۷تغیراً)
حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک روز (گھرسے ) باہرتشریف لے گئے اورشہداء احد پرنماز پڑھی ([1]) جیسی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میت پرنمازِجنازہ پڑھتے تھے ۔
پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبرشریف پر تشریف لے گئے اور ار شاد فرمایا: ’’ میں تمہارے لئے فَرَط ([2]) (یعنی پیش رو) ہوں اورتمہارانگران گواہ ہوں ([3]) اور خداعَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! میں اس وقت بھی اپنے حوض (یعنی حوضِ کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں یا (ارشاد فرمایا) زمین کی چابیاں عطاکی گئی ہیں ۔اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! مجھے تم پر اس بات کاڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے ، بلکہ مجھے تم پراس بات کاخوف ہے کہ تم (حصولِ دنیا کے لئے) ایک دوسرے سے مقابلہ کروگے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃالدنیا، الحدیث: ۶۴۲۶، ص۵۴۰)
حضرت سیدناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رحمتِ کونین ، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ مجھے تم پرجس چیز کا زیادہ خوف ہے وہ اللہ تعالیٰ کا تمہارے لئے زمین کی برکات کونکالناہے۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ زمین کی برکات کیاہیں ؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ دنیا کی آسائشیں ۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’ کیا خیرکے ساتھ شربھی آتاہے ؟ ‘‘ تو سرکا رِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سکوت فرمایاحتی کہ ہم نے گمان کیاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپروحی نازل ہو رہی ہے ، پھر سیدِ عالم ، نورِمجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی مبارک پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ سوال پوچھنے والاکہاں ہے؟ ‘‘ اس شخص نے عرض کی: ’’ میں حاضر ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدناابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ ہم نے اس کے وہاں موجود ہونے پراس کی تعریف کی۔ ‘‘ حضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ خیرکے ساتھ خیرہی آتی ہے ، بے شک یہ دنیاکامال سرسبز اور شیریں لگتاہے جس طرح فصلِ ربیع جوکچھ اُگاتی ہے وہ یاتو جانور کوپیٹ پُھلاکر مارڈالتا ہے یامرنے کے قریب کر دیتا ہے ۔مگر وہ جانور جو ہری ہری گھاس کھائے ، جب پیٹ بھرجائے تو دھوپ میں آجائے، جگالی کرے اورگوبروپیشاب کرے پھرآکردوبارہ چرنے لگے ، یوں ہی یہ مال بھی شیریں ہے لیکن جو حق کے ساتھ
[1] یہ نمازِجنازہ حضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آٹھ سال کے بعدادافرمائی تھی جیساکہ مشکوۃ المصابیح، باب ھجرۃ الصحابۃ من مکۃ ووفاتہ، حدیث۵۹۵۸سے واضح ہے ،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ ’’آٹھ سال بعدنمازِجنازہ پڑھناحضورانور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی خصوصیت ہے۔بعض روایات میں اس کی تصریح بھی ہے کہ یہ نمازِجنازہ تھی۔‘‘(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)
[2] حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ الرحمن ’’لفظ ِفرط ‘‘کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع ،فرط وہ شخص ہے جوکسی جماعت سے آگے منزل پرپہنچ کران کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کاانتظام کرے جس سے وہ جماعت آکرہرطرح آرام پائے،مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہاہوں تاکہ تمہاری شفاعت، تمہاری نجات، تمہاری ہرطرح کارسازی (یعنی مدد)کروں تم میں سے جوبھی ایمان پرفوت ہوگاوہ میرے پاس میری حفاظت، میرے انتظام میں اس طرح آوے گاجیسے مسافراپنے گھرآتاہے ،بھرے گھرمیں۔(اشعۃاللمعات)مومن مرتے ہی حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم)کے پاس پہنچتاہے بلکہ بعض مومنوں کی جانکنی کے وقت خودحضورانور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم)انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی)کاواقعہ ہوا،اوربہت مرنے والوں سے(نزاع کے وقت) سناگیاحضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم)آگئے،خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کوبھی ’’فرط‘‘ فرمایاگیاہے مگروہ ’’فرطِ ناقص‘‘ ہیں ۔حضورانور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم)’’فرط کامل‘‘ یعنی ہرطرح کے منتظم نیز’’اَیْدِیْکُمْ‘‘ میں خطاب ساری امت میں ہے نہ کہ صحابہ کرام (علیہم الرضوان)سے حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم)اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)
[3] حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ الرحمن اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ’’ اس کی تائیداس آیت سے ہے ’’وَیَکُوْنُ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا‘‘ بمعنی نگران گواہ ہے نہ کہ فقط گواہ ،ورنہ(لفظِ) عَلٰی نہ آتابلکہ(لفظِ) لام آتا،(لفظِ)شہادت کے ساتھ اگر(لفظِ) عَلٰی ہوتوخلاف گواہی مرادہوتی ہے،یعنی اے مسلمانوں میں تمہارے ایمان،اعمال ،قلبی حالات کاعلیم وخبیروحفیظ ونگران ہوں تم سب کے ایمان کی نبض پرمیراہاتھ ہے مجھے ہر شخص کے ایمان اوردرجۂ ایمان کی ہروقت خبرہے ۔‘‘(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶۔۲۸۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع