30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہو۔
فرمانِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے کہ ’’ علم سیکھنے سے ہی آتاہے اورفقہ غوروفکرسے حاصل ہوتی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطافرماتاہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں ۔ ‘‘ (طبرانی ، کتاب الاعتصام، ج۱۹، ص۵۱۱، الحدیث: ۷۳۱۲)
اے میرے پیارے اسلامی بھائی! دنیااپنی رونق (یعنی چمک دمک ) سے تجھ پرغالب نہ آجائے اورتجھے فتنے میں مبتلاء نہ کردے، … دنیاسے بچ اور آخرت کی طرف پوری توجہ رکھ ، …کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں تیرے لئے (عمل کا) ضامن ہے لیکن آخرت میں تیرے عمل کا ضامن نہیں ۔چنانچہ،
{۱} اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ (۲۲) فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ (۲۳) (پ۲۶، الذریات: ۲۲، ۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بے شک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو۔
{۲}
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا (پ۲۰، القصص: ۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کراور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول۔
حدیث پاک میں ہے کہ حضورنبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے: ’’ تم میں سے ہرایک چالیس دن تک اپنی ماں کے پیٹ میں نطفہ کی صورت جمع رکھاجاتا ہے (پھرآگے اسی حدیث پاک میں یہ بھی ہے) پھر فرشتے کوچارباتوں کا حکم دیاجاتاہے کہ اس کا رزق ، موت ، عمل اورخوش بخت یا بد بخت ہونا لکھ دے۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب القدر، الحدیث: ۶۵۹۴، ص۵۵۲ملتقتاً)
ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں کے امتحان اورانہیں آزمانے کے لئے جہنم کوشہوات نفسانی سے ڈھانپ دیاہے، …پس خوش بخت وسعادت مندہے وہ شخص جودنیاسے قریب توہو، …اسے صرف اپنے ہاتھ کی مٹھی میں رکھے لیکن اسے اپنے دل میں جگہ نہ دے ، …اور دنیاکو ہاتھ میں رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ ’’ اس میں سے حلال کو لے ، حرام کو چھوڑدے اور شبہات سے بچتا رہے اور اس طرح وہ دنیا کو اپنے ہاتھ (یعنی قابو ) میں رکھ سکے گا، …اوراگرایساہوکہ حلال کوحلال اور حرام کوحرام ہی سمجھے مگر شبہ سے نہ بچے تو وہ دنیا کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے اس کے فتنے میں غرق ہوجائے گا۔
امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمرو بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہغزوہ بدر میں حضورنبیٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ شریک تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشادفرماتے ہیں کہ اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ، منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اہل بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لئے روانہ فرمایاکیونکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بحرین والوں سے جزیہ کے بدلے صلح فرمائی تھی اور حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ان کا گورنر مقررفرمایا تھا۔جب حضرت سیدناابوعبیدہ بن الجراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبحرین سے (جزیہ کا) مال لے کر واپس لوٹے توانصارنے آپ کی آمدکی خبرسنی تو سب نے صبح کی نمازحضورنبیٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اداکی ، جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فارغ ہوئے توسارے سامنے آگئے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشادفرمایا: ’’ میرا خیال ہے کہ آپ لوگوں نے ابو عبیدہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی آمد کی خبر سن لی ہے کہ وہ کچھ مال لائے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ یا رسولَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایساہی ہے۔ ‘‘ حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ خوشخبری سنا دو اور اُس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے گا، پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! مجھے تم پر فقر (غربت) کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلی قوموں پر پھیلاءی گئی تھی پس تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو گے ، اوریہ تمہیں غفلت میں ڈال دے گی جس طرح اس نے پچھلی قوموں کوغافل کردیا۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع