30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیارشادفرماتے ہیں کہ انسان کبھی تندرست ہوتا ہے مگر کسبِ معاش میں مشغولیت کی بناء پرفارغ نہیں ہوتا اور کبھی خوشحال ہوتا ہے لیکن تندرست نہیں رہتا پس جب تندرست اور فارغ ہو اور طاعت کی بجائے سستی غالب آجائے تو ایساشخص خسارے میں ہے ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں ایسی تجارت موجودہے جس کا نفع آخرت میں ملے گا۔
وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کو خداوند قُدُّوْس عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی واطاعت میں گزارے تو جس نے اپنی صحت وفراغت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آگھیرتی ہے۔اوراگر ایسا نہ بھی ہوتوپھر بڑھاپا ہی کافی ہے۔جیساکہ کسی شاعرنے کہاہے:
یَسُرُّالْفَتَی طُولُ السَّلَامَۃِ وَالْبَقَا فَکَیْفَ تَرَی طُوْلَ السَّلَامَۃِیَفْعَلُ
یَرُدُّالْفَتَی بَعْدَاِعْتِدَالٍ وَصِحَۃٍ یَنُوْئُ اِذَارَامَ الْقِیَامَ وَیُحْمَلُ
ترجمہ: (۱) …لمبی عمراورطویل سلامتی (صحت) نوجوان کوخوش کرتی ہے ، (اے انسان) توکیسے سمجھتاہے کہ طویل سلامتی ایساکرتی رہے گی؟
(۲) …وہ تونوجوان کوصحت اورمعتدل زندگی کے بعدبڑھاپے کی طرف لوٹادے گی کہ جب کھڑاہوناچاہے گاتومشقت سے اٹھے گااور (کبھی) بوجھ کی مثل اٹھایا جائے گا۔
آہ! بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے کی وجہ سے نعمت صحت اور فرصت کے فریب میں آچکے ہیں … اور اکثر لوگ برائی کا حکم دینے والے نفس کی پیروی کرتے ہیں ، …احکام شریعت پرعمل کرنے اور عبادات سے جی چراتے ہیں ، …اور اگر وہ عقلمندی اور ہوش سے کام لیتے تو ضروراللہ عَزَّ وَجَلَّ پرکامل ایمان رکھتے، … مجاہدۂ نفس کرتے ، …اوردنیا وآخرت کی بھلائیاں پانے کے لئے ایمان والوں سے دوستی اور دین کے دشمنوں کی مخالفت کرتے۔
غورکیجئے ! کہ حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک فرمان کے سامنے دنیا کی کیا قیمت ہے …؟ چنانچہ، اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوبعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں کوڑا (ہنٹر، دُرَّہ) رکھنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے ۔
(صحیح البخاری، کتاب الجھاد، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ ، الحدیث: ۲۸۹۲، ص۲۳۳)
بغیرکسی نیک ارادے کے ، محض مال کی کثرت اور لمبی عمر کی حرص نہ کر… کیونکہ مسلسل گناہوں میں بسر کی گئی طویل عمر کوئی فائدہ نہیں دیتی جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت والے کاموں میں خرچ کئے بغیر مال کی کثرت کوئی نفع نہیں دیتی، …ہاں ! لمبی عمر کا طاعتِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ میں گزارنا ضرورنفع دے گا اوربھلائی کے کاموں میں خرچ کی جائے تودولت کی کثرت بھی نفع دیتی ہے ، … جبکہ عمرکالمباہونااورمال کی کثرت اس وقت مذموم ہے جب ان دونوں کونیکی کے کاموں میں صرف نہ کیاجائے ، …اسی وجہ سے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے خطبات میں ان دونوں کی مذمت فرمائی ہے۔چنانچہ، حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ نصیحت بنیادہے: ’’ بوڑھے آدمی کا دل دوچیزوں کے معاملے میں ہمیشہ جوان رہتاہے (۱) لمبی امیدیں اور (۲) دنیا کی محبت۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۴۲۰، ص۵۳۹)
حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ تاجدارِمدینہ، قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عالیشان ہے: ’’ جوں جوں ابن آدم کی عمر بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ دوچیزیں بھی بڑھتی رہتی ہیں (۱) مال کی محبت اور (۲) لمبی عمر کی خواہش ۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۶۳۲۱)
قرآن پاک میں لمبی امیدوں کی مذمت :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لمبی امیدوں کی مذمت کے بارے میں ارشاد فرمایا :
ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (۳) (پ۱۴، الحجر: ۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع