30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…٭…٭…٭…٭…٭
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کی زندگی کااہم مقصدعبادت الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کے ذریعے اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔چنانچہ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶) (پ۲۷، ا لذّٰریٰت: ۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میں نے جنّ اورآدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔
اوراس عظیم مقصدکوکَمَاحَقُّہ پانے کے لئے بندے کوچاہئے کہ اس دنیا میں زہد اختیار کرے ، اورزہد سے مرادیہ ہے کہ ’’ ایک چیزسے دوسری چیز کی طرف توجہ پھیر لیناجوپہلی سے بہترہواوراس میں شرط ہے کہ جس چیز سے توجہ ہٹائی جائے وہ بھی کسی اعتبار سے دل کو پسند ہو۔ ‘‘ اورعام طورپر ’’ زاہد ‘‘ دنیا ترک کرنے والے کو کہتے ہیں پھر جوبندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سواہر چیز میں زہد اختیار کرے وہ ’’ زاہدکامل ‘‘ کہلاتا ہے اورجو جنت اور اس کی نعمتوں میں رغبت رکھتے ہوئے زُہد اختیار کرے وہ بھی زاہد ہے لیکن زاہد کامل سے کم درجے والاہے۔
بہرحال عقلمندی کاتقاضایہی ہے کہ انسان دنیاکی زندگی پرآخرت کی زندگی کوترجیح دے کہ وہی دائمی وباقی رہنے والی ہے۔چنانچہ، ارشادباری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (۶۴) (پ۲۱، العنکبوت: ۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک آخرت کا گھر ضرو ر وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے میرے کندھے پکڑکر ارشاد فرمایا: ’’ دنیا میں ایک اجنبی اور مسافربن کر رہو۔ ‘‘ حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ جب توشام کرے توآنے والی صبح کا انتظار مت کر ، اورجب صبح کرے توشام کا منتظر نہ رہ ، اورحالت صحت میں بیماری کے لئے اورزندگی میں موت کے لئے تیاری کرلے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَفی الدنیا۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۴۱۶، ص۵۳۹)
زیرِ نظر رسالہ ’’ اَلزُّھْدُ وَقَصْرُ الْاَمَل ‘‘ (مطبوعہ توزیع مکتبۃ الغزالی ، دمشق) میں قرآن وحدیث کی روشنی میں زُہد اور امیدوں کی کمی کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔آج ہر شخص اپنی دنیا سنوارنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا ہے، آخرت کی فکر دلوں سے ختم ہوتی جارہی ہے، انسان نے اپنا سب کچھ دنیا کو سمجھ رکھا ہے اورلمبی لمبی امیدیں باندھ رکھی ہیں ، ایسے حالات میں ضروری ہے کہ لوگوں کے دلوں میں زہد وتقوی کی اہمیت اجاگر کی جائے۔لہٰذا اسلامی بھائیوں کے دلوں میں زہد کی اہمیت ڈالنے کے مقدس جذبے کے پیش نظر قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ تراجم کتب اس رسالے کا ترجمہ بنام ’’ دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی ‘‘ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔شعبہ تراجم کتب کے مدنی اسلامی بھائیوں کی کاوشوں سے یہ رسالہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس ترجمہ میں جوخوبیاں ہیں وہ یقینا ربِّ رحیم اور اس کے محبوب کریم عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عطاؤں ، اولیاءے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی عنایتوں اورشیخ طریقت ، امیر اہلِ سنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی پُرخلوص دعاؤں کا نتیجہ ہے اورجوخامیاں ہیں ان میں ہماری کوتاہ فہمی کودخل ہے۔
ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل امور کاخاص خیال رکھا گیا ہے :
٭… سلیس اوربامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی بھی اچھی طرح سمجھ سکیں ۔
٭…عربی عنوانات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقل اردوعنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔
٭…آیات مبارکہ کا ترجمہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان سے لیا گیا ہے ۔
٭…احادیث کی تخریج اصل مأخذسے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
٭…کئی مقامات پرمشکل الفاظ کے معانی بریکٹ کے درمیان لکھ دیئے گئے ہیں ۔
٭…تلفظ کی درستگی کے لئے بعض الفاظ پر اعراب بھی لگائے گئے ہیں ۔
٭…علاماتِ ترقیم کا خیال رکھا گیاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع