30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔جبکہ بہت سے پاکدامن فقیرایسے بھی ہیں جواپنے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقسیم پرراضی ہیں اور کتنے ہی مالدار ایسے ہیں کہ مالداری نے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت سے دورکردیاہے۔بہرحال ہونا یہ چاہئے کہ غربت میں بندہ صبرورضاکاپیکربنارہے اور مالداری میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکراوراس کی ثنابجالائے کیونکہ دنیاکی یہ چند روزہ زندگی ختم ہونے اورگزرجانے والی ہے۔
مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے عبادات کو جلدادا کرنے کے معاملہ میں حریص ہوتا ہے، …کوتاہی کوترک کردیتا ہے ، …پہلی فرصت میں طاعات وعبادات بجا لاتاہے، … اورمکمل اہتمام کے ساتھ اداکرتاہے ، …اوریہ کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم، نُورِمُجسَّم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے کی بہت سی مثالیں قائم کیں اور بیان فرمائی ہیں ۔چنانچہ،
حضرت سیدناعقبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ مَیں نے مدینہ منورہ میں حضورنبی ٔکریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلام پھیر نے کے بعد جلدی سے اٹھے اورلوگوں کی گردنیں پھلانگ کراپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اس جلدی کودیکھ کر گھبراگئے ، پھرنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف لائے تولوگوں کواس عجلت سے متعجب دیکھ کرارشادفرمایا: ’’ مجھے کچھ ’’ سونا ‘‘ یادآگیاجوہمارے گھر میں تھامیں نے یہ ناپسندکیاوہ مجھے (یادالہی عَزَّ وَجَلَّ سے) روکے تومیں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔ ‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب من صلی بالناس فذکر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۸۵۱، ص۶۷)
رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی اطاعت، سعادت کی علامت :
وہ مسلمان جسے حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی توفیق مل جائے وہ یقیناسعادت مندہے کہ ایساشخص آخرت کودنیاپرترجیح دیتاہے اورموت کو ہمیشہ یاد رکھتاہے۔چنانچہ،
حضرت سیدنا شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کوکمزور کردے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لئے نیک عمل کرے اورعاجزولاچار وہ ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر لمبی امیدیں رکھے ۔ ‘‘ (شعب الایمان، باب فی الزھدوقصرالامل، الحدیث: ۱۰۵۴۶، ج۷، ص۳۵۰)
حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ رحمت ، شفیع امت ، مالکِ جنت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : ’’ سب سے زیادہ عقلمندودانا وہ مومن ہے جو موت کو کثرت سے یاد کرے اور اس کے لئے احسن طریقے پرتیاری کرے ، یہی (حقیقی) دانا لوگ ہیں ۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۱۰۵۴۹، ص۳۵۱)
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زیدبن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سودینارکے عوض ایک مہینے کے لئے ایک باندی خریدی تومیں نے حضورنبی ٔ اکرم ، رسول محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے ہوئے سنا : ’’ کیا تم اُسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینے کاسودا کرتا ہے، یقینا ا ُسامہ لمبی اُمید والا ہے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوں کہ کہیں میری پَلکیں کھلنے سے پہلے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری روح قبض نہ فرما لے اور جب اپنی پلکیں اٹھاتا ہوں تویہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں انہیں جھکانے سے پہلے ہی موت کاوعدہ نہ آجائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو یہ گمان کرتاہوں کہ موت کااُچھو لگنے (یعنی موت آنے ) سے پہلے اسے نہ نگل سکوں گا، اے لوگو! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کومُردوں میں شمارکرو، کیونکہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سیدنااسامہ بن زیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اس باندی کواپنا ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے خریداتھا (یعنی اس وقت مال موجودتھا، بعدمیں نہیں خریدسکتے تھے) (المرجع السابق، الحدیث۱۰۵۶۴، ص۳۵۵)
فکرِآخرت کے متعلق فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع