30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، باب ان الصالحین یشددعلیھم، الحدیث: ۷۹۶۹، ج۵، ص۴۵۴)
پس تکالیف ومشقتوں کے اس بیابان کوسرکرنے کے بعدہی بندہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے اورشہوات کوترک کرکے ہی دوزخ سے چھٹکارا پاسکتاہے ، کیونکہ اطاعت وفرماں برداری جنت میں پہنچاتی ہے اورگناہ و نافرمانی جہنم میں لے جاتی ہے اوربعض اوقات اطاعت اور معصیت ونافرمانی معمولی سی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے۔چنانچہ،
(۵) … حضرت سیدنابلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ بندہ کوئی بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی کی کرتاہے اوروہ اس درجہ ومقام تک پہنچتی ہے جس کااس کوگمان بھی نہیں ہوتااوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب قیامت تک کے لئے اپنی رضاوخوشنودی لکھ دیتاہے ، اور کوئی بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کاکلمہ منہ سے نکالتاہے اوروہ اس مقام تک پہنچتاہے جس کااسے گمان نہیں ہوتاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بات پر قیامت کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے ۔ ‘‘ (جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی قلۃالکلام، الحدیث: ۲۳۱۹، ص۱۸۸۵)
(۶) …حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ انہوں نے شہنشاہِ خوش خِصال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشادفرماتے ہوئے سناکہ ’’ بندہ کبھی کوئی بات ایسی کہہ دیتاہے جس کے سبب جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتاہے جتنا مشرق اور مغرب کا در میانی فاصلہ ہے ۔ ‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب حفظ اللسان، الحدیث: ۷۴۸۱، ص۱۱۹۵)
پیارے اسلامی بھائی! تھوڑی سی بھلائی (یعنی نیکی ) بھی مت چھوڑاورنہ ہی معمولی سی برائی (یعنی گناہ) کواختیارکرکیونکہ تجھے نہیں معلوم کہ کون سی نیکی کے سبب اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمادے اور کس برائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تجھ سے ناراض ہوجائے ۔
فقراء اوران کی مجالس کوحقیرنہ جانو
پیارے اسلامی بھائی! جوچیزتجھے جنت سے قریب اورجہنم سے دورکر دے گی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کااحترام ہے ([1]) ، …بالخصوص نیک وپرہیزگارفقراء کی تعظیم وتکریم کرنا، … اُنکی قدر ومنزلت کوسمجھنا، …اور اُن سے دوستی ایسی ہوجیسی تم اغنیاء اورمالداروں سے کرتے ہو ، …اگر وہ تیرے پاس کوئی حاجت لے آئیں تو اپنے منصب ومال کے ذریعے ان کی غم گساری کر ، …انہیں حقیر مت جان ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں ۔
؎زاہد نگاہ تنگ سے کسی رِند کو نہ دیکھ
شاید کہ اس کریم کو تو ہے کہ وہ پسند
فقراء کے فضائل پراحادیث مبارکہ:
(۱) … حضرت سیدناسہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس سے ایک شخص کاگزر ہواتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے استفسارفرمایا: ’’ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ ’’ اس نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اس کا شمار نیک اور شریف لوگوں میں ہوتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ توایساہے کہ اگرکسی کونکاح کا پیغام بھیجے تواس سے شادی کرلی جائے اوراگرکسی کی سفارش کرے تواس کی سفارش منظورکرلی جائے ۔ ‘‘
حضرت سیدناسہل بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموش رہے پھرایک دوسرے شخص کاوہاں سے گزرہواتوحضورنبی ٔ اکرم ، رسول محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے بارے میں بھی استفسارفرمایا: ’’ اس کے متعلق تمہاری کیارائے ہے ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اس کا شمارفقراء مسلمین (یعنی غریبوں ) میں ہوتا ہے اویہ ایساہے کہ اگرکسی کونکاح کا پیغام بھیجے توکوئی اس سے شادی نہ کرے، کسی کی سفارش کرے تومنظورنہ کی جائے اوراگربات کرے توسنی نہ جائے ۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ یہ اس جیسے زمین بھرسے بہتر ہے ۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب فضل الفقر، الحدیث: ۶۴۴۷، ص۵۴۲)
[1] ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کے احترام کے بارے میں مزیدمعلومات کے لئے بانی ٔ دعوتِ اسلامی،شیخِ طریقت ،امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکارسالہ’’احترامِ مسلم‘‘مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کامطالعہ انتہائی مفیدرہے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع