30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے: ’’ جنت تم سے اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتناتمہارے جوتے کاتسمہ ، جوتے سے قریب ہے اوردوزخ بھی اسی طرح ہے (یعنی بہت زیادہ قریب ہے ) ہاں ! یہ بات ہے کہ جنت کو تکالیف سے اوردوزخ کو شہوتوں اور لَذّتوں سے ڈھانپ دیاگیاہے۔ ‘‘ یعنی راہِ جنت میں مصائب وتکالیف ہیں جبکہ شہوات دوزخ میں پہنچاتی ہیں ۔
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حجبت الناربالشھوات، الحدیث: ۶۴۸۸، ص۵۴۴)
(۲) …حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’ جہنم کو نفسانی شہوات سے ڈھانپ دیاگیاہے اورجنت کوتکالیف سے ڈھانپ دیاگیاہے۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۶۴۸۷)
(۳) …حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے رحمت کونین ، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) کو جنت کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا: ’’ جنت اوراس کی اُن نعمتوں کودیکھو جومیں نے اہل جنت کے لئے تیارکی ہیں ۔ ‘‘ حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشادفرماتے ہیں : ’’ توجبرائیل (علیہ ا لسلام ) جنت میں آئے ، جنت اوراہل جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیارہ کردہ نعمتیں دیکھ کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور عرض کی: ’’ تیرے عزت وجلال کی قسم! جو بھی اس جنت کے بارے میں سنے گا وہ ضروراس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا ۔ ‘‘ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم فرمایااورجنت کو مشقتوں اورتکالیف سے ڈھانپ دیاگیا۔ ‘‘
پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) سے فرمایا: ’’ دوبارہ جائواورجنت اوراس کی نعمتوں کودیکھوجومیں نے جنتیوں کے لئے تیارکی ہیں ۔ ‘‘ حضورنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشادفرماتے ہیں : ’’ جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) د وبارہ جنت میں گئے تو کیا دیکھا کہ اس کومشقتوں اور تکالیف سے ڈھانپ دیاگیاہے، پس جبرائیل امین ( عَلَیْہِ السَّلَام ) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تیرے عزت وجلال کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اب اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہوسکے گا۔ ‘‘
پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ’’ اب دوزخ کی طرف جائواوردوزخ اوراس کے عذابات کودیکھوجومیں نے اہل دوزخ کے لئے تیارکئے ہیں ۔ ‘‘ حضرت جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) نے جاکر دیکھا کہ دوزخ (کی آگ) کا ایک حصہ دوسرے پرچڑھ رہاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہو کر عرض کی: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تیرے عزت وجلال کی قسم ! کوئی بھی ایسانہیں جو جہنم (کی سختی ) کے بارے میں سنے اوراس میں داخل ہو (یعنی بچنے کی کوشش کرے گا ) پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے جہنم کو شہوات ولَذّات کے پردوں سے ڈھانپ دیاگیا۔ ‘‘
پھراللہ تعالیٰ نے جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) کو حکم دیا: ’’ دوبارہ جہنم کی طرف جائو ۔ ‘‘ جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) گئے اوربارگاہ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں حاضرہو کر عرض کی : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تیری عزت وجلال کی قسم! مجھے خوف ہے کہ اب اس سے کوئی بھی نہ بچ پائے گا ، بلکہ (شہوات میں مبتلاہوکر) اس میں جاپڑے گا۔ ‘‘
(جامع الترمذی، کتاب صفۃالجنۃ، باب ماجاء خفت الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۵۶۰، ص۱۹۰۹)
امام ابن حجرعسقلانی علیہ رحمۃاللہ القوی ، فتح الباری ، جلد۱۱، صفحہ ۲۷۳پراس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں آنے والے لفظِ ’’ مکارۃ ‘‘ (یعنی تکالیف) سے مرادوہ اچھے یابرے اعمال ہیں جن کاایک مسلمان مکلف کومجاہدۂ نفس کے لئے کرنے یا چھوڑنے کاحکم دیاگیاہے جیسے عبادات کی مکمل ادائیگی اوران پرمحافظت اختیارکرنااوراپنے قول اورعمل کے ذریعے ممنوعات شرعیہ سے بچنا۔ اوراچھے اعمال بجالانے اوربرے اعمال ترک کرنے پرلفظِ ’’ مکارۃ ‘‘ (یعنی تکالیف) کا اطلاق اس لئے کیا گیاہے کہ عبادات کی ادائیگی اورگناہوں سے بچنے میں عامل کومشقت اورصعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور ان میں ایک مصیبت پر صبرکرنااورحکم الہی عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا بھی ہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزیدفرماتے ہیں : ’’ اور ’’ شہوات ‘‘ سے مرادوہ دنیاوی امورہیں جن کے ذریعے لذّت حاصل کی جاتی ہے خواہ شریعت نے اس سے بلاواسطہ منع کیاہویااس کے کرنے سے احکاماتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں سے کسی حکم کاترک لازم آتاہو۔نیزمشتبہ (جن میں شک ہو ) اور وہ جائزومباح کام جن پر عمل کے باعث حرام میں پڑنے کا خوف ہو، سب اس (شہوات) میں داخل ہیں ۔چنانچہ،
(۴) …حضرت سیدنا عطیہ بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔاکرم ، نورِمجسم ، رسول محتشمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ آدمی اس وقت تک متقی وپرہیز گار نہیں ہو سکتاجب تک ناجائزکاموں سے بچنے کے لئے جائزومباح کاموں کونہ چھوڑدے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع