30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایک شخص نے عرض کی : ’’ کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ ‘‘ تو حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا: ’’ کیا تمہاری بیوی ہے جس کے ساتھ تم رہتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ ہاں ۔ ‘‘ پوچھا: ’’ کیا تیرے پاس رہنے کی جگہ ہے؟ ‘‘ عرض کی: ’’ ہاں ۔ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ تم تواغنیاء میں سے ہو ۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’ میراایک خادم بھی ہے۔ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ پھر توتم بادشاہ ہو ۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۷۴۶۲، ص۱۱۹۶)
دنیامیں مؤمن کانفس اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ اس بات کی حقیقت کوجان لے کہ اس کا حقیقی مال وہ ہے جواس نے کھاکرختم کردیا، جو پہن کربوسیدہ کردیا اور جسے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں صدقہ کرکے آخرت کے لئے محفوظ کرلیا اور اس کے علاوہ باقی سارامال وہ عنقریب اپنے ورثاء کے لئے چھوڑجائے گا۔چنانچہ،
(۱) … حضرت سیدنامُطَرِّف کے والدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں حضورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر (پ۳۰، تکاثر) کی تلاوت فرمارہے تھے۔ چنانچہ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ ابن آدم کہتا ہے: ’’ میرامال میرامال۔ ‘‘ پھرفرمایاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا: ’’ اے ابن آدم! تیرا مال تو وہی ہے جو تونے کھاکرختم کردیا، یاجوپہن کربوسیدہ کردیا یا وہ جوصدقہ کرکے آخرت کے لئے بھیج دیا ۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۷۴۲۰، ص۱۱۹۱)
(۲) … حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ بندہ کہتا ہے ’’ میرامال میرامال ‘‘ لیکن اس کامال توصرف تین طرح کاہے (ا) جوکھاکرختم کردیا (۲) یاجو پہن کربوسیدہ کردیا (۳) یا جوکسی کوصدقہ دے کرآگے (آخرت کے لئے) بھیج دیا، اس کے علاوہ جوبھی مال ہے وہ توجانے والا ہے اوروہ اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دے گا۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۷۴۲۲)
عمل ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتاہے:
(۳) … حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عبرت نشان: ’’ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ، دو واپس ہوجاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے ، اس کے اہل ، مال اور عمل ساتھ جاتے ہیں تواس کے اہل ومال واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کاعمل ساتھ رہتاہے ۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۷۴۲۴)
جب دنیا ایک ختم ہوجانے والا سایہ ہے اورفانی ہونے والا سامان ہے تو تجھ پر لازم ہے کہ تو آخرت کے لئے مکمل اہتمام کر ۔چنانچہ،
(۱) …حضرت سیدنامعقِل بن یساررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَارشادفرماتے ہیں کہ تمہاراپاک پَروَرْدْگار عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: ’’ اے ابن آدم ! توخودکو میری عبادت کے لئے فارغ کرلے میں تیرے دل کوغناء سے اور تیرے ہاتھوں کو رزق سے بھر دوں گا۔اور اے ابن آدم ! تو میری عبادت سے دوری اختیارنہ کر (ورنہ ) میں تیرے دل کو فقر سے بھردوں گااور تیرے ہاتھوں کودنیاوی کاموں میں مصروف کردوں گا۔ ‘‘ (المستدرک للحاکم ، کتاب الرقاق، الحدیث: ۷۹۹۶، ج ۵، ص۴۶۴)
(۲) …حضرت سیدناابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ جس نے دنیا سے محبت کی وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گااورجس نے آخرت سے محبت کی اس کو دنیا میں نقصان ہوگا، توتم باقی رہنے والی (آخرت) کو فنا ہونے والی (دنیا) پرترجیح دو۔ ‘‘ (المرجع السابق، الحدیث: ۷۹۶۷، ص۴۵۴)
(۳) … حضرت سیدنامغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سردارِمکہ مکرمہ، سلطانِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اتنی لمبی نماز ادا فرماتے تھے کہ مبارک قدموں میں ورم آجاتایاان میں زخم ہوجاتے اورجب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کے بارے میں عرض کی جاتی ( کہ اتنی مشقت کس لئے ؟ ) توارشادفرماتے : ’’ کیا میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کا شکرگزاربندہ نہ بنوں ؟ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب الصبرعن محارم اللہ، الحدیث: ۶۴۷۰، ص۵۴۳)
(۱) … حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع