30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یحییٰ ‘‘ نامی راوی نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، باب فناء الدنیا، الحدیث: ۷۱۹۷، ص۱۱۷۳)
(۳) … حضرت سیدناجابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی ہے کہ رحمتِ عالم ، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم رسول محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعالیہ کے کسی حصہ سے آتے ہوئے بازار سے گزرے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دونوں طرف لوگ تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے ہواجس کاایک کان چھوٹاتھا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس کا کان پکڑ کر اٹھایااورارشادفرمایا : ’’ تم میں سے کون اسے ایک درہم میں خریدناچاہے گا۔ ‘‘ لوگوں نے عرض کی : ’’ ہم اسے کسی بھی چیزکے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتے ، ہم اس کا کیا کریں گے ؟ ‘‘ ارشادفرمایا : ’’ کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تم کو مل جائے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھاکہ اس کاایک کان چھوٹاہے توپھرجبکہ یہ مردہ ہے کوئی اسے کیسے لے گا ؟ ‘‘ حضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! جیسے تمہاری نظروں میں یہ مردہ بچہ کوئی وقعت نہیں رکھتا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الزھدوالرقاق، باب الدنیاسجن۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۴۱۸، ص۱۱۹۱)
(۴) …حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بکری کے ایک خارش زدہ بچے کے پاس سے گزرے جس کو اس کے مالکوں نے گھرسے نکال دیا تھا ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم خیال کرتے ہوکہ یہ بکری کابچہ اپنے مالکوں کی نظر میں بے وقعت تھا؟ ‘‘ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے عرض کی : ’’ جی ہاں ! یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’ جس طرح یہ خارش زدہ بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک حقیر ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک دنیا اس سے بڑھ کرحقیر ہے ۔ ‘‘ (المسندللامام احمدبن حنبل، ج۳، الحدیث: ۸۳۷۲، ص۲۴۰)
(۵) …حضرت سیدناسہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پَر کے برابر بھی ہوتی تووہ اس دنیاسے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کونہ دیتا۔ ‘‘
(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی ھوان الدنیا۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۳۲۰، ص۱۸۸۵)
(۶) … حضرت سیدناسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں ایک گروہ حاضر ہواتو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے استفسار فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس کھانا ہوتاہے ؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’ جی ہاں ! یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا : ’’ کیا تمہارے پاس پانی بھی ہے ؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ کیا تم اُسے ٹھنڈابھی کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھر ارشادفرمایا: ’’ ان دونوں (یعنی کھانے اورپانی) کاانجام بھی دنیا کے انجام کی طرح ہے (کہ جیسے کھانااورپانی غلاظت بن جاتاہے دنیابھی فانی ہوجائے گی) جب تم میں سے کوئی اپنے گھر کے پچھواڑے کی طرف (پیشاب کرنے ) جاتا ہے تو اس کیگندگی کی بدبو کی وجہ سے اپنے ناک کو پکڑ لیتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر، الحدیث: ۶۱۱۹، ج۶، ص۲۴۸)
(۷) … حضرت سیدنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان عبرت نشان ہے : ’’ دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حرص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ‘‘
(جامع الترمذی ، کتاب الزھد، باب حدیث ماذئبان جائعان، الحدیث: ۲۳۷۶، ص۱۸۹۰)
نفسِ مومن دنیا سے مطمئن کیوں ؟
دنیامیں بندۂ مؤمن کادل اس وقت تک خوش اورمطمئن رہتا ہے جب تک اس کی نظر اپنے سے نچلے لوگوں (کے مال ودولت) پرہوتی ہے اور جب اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتاہے تو اس کی زندگی اَجیرن اور بدمزہ ہو جاتی ہے اور اس کے ایمان کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔چنانچہ،
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ ذیشان ہے: ’’ (دنیا کے معاملے میں ) اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو اور اپنے سے اوپر والوں کو مت دیکھو، یہ تمہارے لئے بہترین نصیحت ہے تاکہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں نہ کھو بیٹھو۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب الدنیاسجن۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۴۳۰، ص۱۱۹۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع