دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Dunya se be Raghbati aur Umeedon ki Kami | دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں کی کمی

book_icon
دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں کی کمی

نے ارشادفرمایا:   ’’ نہیں ۔تم اُس دن کی بنسبت آج بہترحال میں ہو۔ ‘‘  (جامع الترمذی، کتاب صفۃالقیامۃ، باب حدیث علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۴۷۶، ص۱۹۰۱)

 (۴) …حضرت سیدناابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ:

            دنیاسے کنارہ کشی اختیارکرنے والوں میں سے ایک حضرت سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔چنانچہ،   حضرت سیدناابوہاشم بن عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیمارتھے کہ حضرت سیدناامیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہان کی بیمار پرسی کے لئے آئے توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو روتے ہوئے پایا،  حضرت سیدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت فرمایا:  ’’  اے ماموں جان ! آپ کیوں روتے ہیں ؟ کیا درد نے آپ  کو پریشان کر رکھا ہے یا دنیا کی حرص ہے ۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :  ’’ ہرگز نہیں بلکہ حضورنبی کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہم سے ایک عہد لیا تھا جسے ہم نے پورا نہ کیا۔ ‘‘  حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ وہ کون سا عہد تھا؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :  ’’ میں نے حضور نبیٔ رحمت ، شفیع امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ  ’’ مال جمع کرنے کے مقابلے میں  ’’ ایک خادم  ‘‘ اور راہِ خداعَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کے لئے  ’’ ایک سواری  ‘‘ کافی ہے ۔ ‘‘ (پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا) اور آج میں اپنے پاس مال جمع پاتاہوں ۔ ‘‘ پس جب حضرت سیدناابوہاشم بن عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ترکہ کو شمار کیا گیا توصرف۳۰درہم کی مقدار کوپہنچا ، اور اس حساب میں وہ برتن بھی شامل تھا جس میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآٹاگوندھا کرتے اور اسی میں کھانا کھاتے تھے۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب، کتاب التوبۃوالزھد، الحدیث: ۵۰۸۲، ج۴، ص، ۹۵)  

  (۵) … حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ:

            دنیامیں زہداختیارکرنے والوں میں ایک نام حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکابھی ہے،  ان کو ’’ سلمان الخیر  ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔چنانچہ،

            حضرت عامر بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  سے منقول ہے کہ جب حضرت سیدنا سلمان الخیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کا وقت قریب آیاتو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر گھبراہٹ کے آثار دکھائی دیئے ، لوگوں نے پوچھا:  ’’  اے عبداللہ کے باپ!  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو کس چیزنے پریشان کردیا ہے ؟ حالانکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتو بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے تھے اورآپ تو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کئی غزوات اور بڑی بڑی فتوحات میں شریک رہے۔ ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ مجھے یہ بات پریشان کئے ہوئے ہے کہ اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ،  منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہم سے جدا ہوتے وقت ایک عہد لیا تھا کہ ’’  تم میں سے ہرشخص کوایک مسافرجتنا زادِراہ کافی ہے ۔ ‘‘ اوریہی وہ بات ہے جس نے مجھے پریشان کیاہے۔ ‘‘

            حضرت عامربن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’  جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا مال جمع کیا گیا تو اس کی قیمت صرف ۱۵درہم کے برابرتھی۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب، کتاب التوبۃوالزھد، الحدیث: ۵۰۵۳، ج۴، ص، ۹۶)  

د نیا کے با رے میں فرامینِ مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہ وَسَلَّم

            حضورنبی ٔ اکرم ، رسولِ محتشم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْندنیا میں زہد (یعنی دنیاسے کنارہ کشی) اختیارکئے رہے کیونکہ دنیا ان کا دائمی گھر نہیں تھایقینا حقیقی گھر تو آخرت ہے اورحضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے لئے دنیا کے بارے میں بہت سی مثالیں بیان فرمائیں ۔چنانچہ،

 (۱) … حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ،  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ رسولوں کے سالار،  دوعالم کے مالک ومختار  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ایک چٹائی پرسوگئے ،  جب اٹھے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پہلو مبارک پرچٹائی کے نشان تھے ، ہم نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اگرہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے نرم بستربچھادیتے ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:  ’’ مجھے دنیا سے کوئی غرض نہیں ، مَیں دنیامیں اُس مسافر کی طرح ہوں جو ایک درخت کے سائے میں  (کچھ دیر )  آرام کرتا ہے اور پھر کوچ کرجاتا ہے اوراس درخت کو چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب حدیث ماالدنیا۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۳۷۷، ص۱۸۹۰)  

 (۲) …حضرت سیدنا مستورد بن شدادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب،  منزہ عن العیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! آخرت کے مقابلے میں دنیا اتنی سی ہے جیسے کوئی اپنی اس انگلی کو سمندر میں ڈالے تو وہ دیکھے کہ اس انگلی پر کتنا پانی لایا ۔ ‘‘ اس حدیث کے ’’  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن