30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت کی خوشخبری ہو۔ ‘‘ تو حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرقسم کھانے والی کون ہے ؟ ‘‘ حضرت سیدناکعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ میری والدہ ہیں ۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ اے کعب کی ماں ! تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے کہ کعب نے ایسی بات کی ہو جو اس کونفع نہ دے ۔اوروہ کچھ جمع کیا ہوجواسے کفایت نہ کرسکے ۔ ‘‘ (المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۱۵۷، ج۵، ص۲۲۸)
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ ایک دن یا رات کو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گھر سے نکلے تو دیکھاکہ حضرت سیدناابو بکر اورحضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی باہر کھڑے ہیں ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے استفسارفرمایا: ’’ تمہیں اس وقت کیا چیزگھروں سے باہرلے آئی ؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! بھوک ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں بھی اُسی چیزکے سبب گھرسے نکلاہوں جس نے تمہیں گھرسے نکالا ہے، ٹھہرو۔ ‘‘ تووہ دونو ں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس رُک گئے پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے لیکن وہ گھر میں موجود نہ تھے، جب اس انصاری کی بیوی نے دیکھا تو خوشی سے کہنے لگی : ’’ مرحبااورخوش آمدید۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس انصاری کے بارے میں پوچھا: ’’ وہ کہاں ہیں ؟ ‘‘ عرض کی: ’’ وہ ہمارے لئے میٹھاپانی لینے گئے ہیں ۔ ‘‘
جب وہ انصاری واپس لوٹے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اورآپ کے دو نو ں صاحبوں کودیکھ کرکہا: ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! آج میرے مہمانوں سے بڑھ کر معز ز مہمان کسی کے نہیں ۔ ‘‘ پھروہ جاکران کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے آئے جس میں ادھ پکی کھجوریں ، چھوہارے اورتازہ کھجوریں تھیں ، انہوں نے عرض کی: ’’ آپ یہ تناول فرمائیں ۔ ‘‘ اور خود چھری سنبھال لی توآقائے دوجہاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم نے اس سے فرمایا : ’’ دودھ دینے والی بکری ذبح نہ کرنا۔ ‘‘ پس اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی ، سب نے اس بکری کا گوشت کھایا ، کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔جب سب نے سیرہوکرکھاپی لیا توحضورنبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوبکر اور عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ارشادفرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! بروزِ قیامت تم سے ا ن نعمتوں کے بارے میں ضرورپوچھا جائے گا ، تمہیں بھوک نے گھر سے نکالا پھرواپس ہونے سے پہلے تمہیں یہ نعمتیں مل گئیں ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، باب جوازاستتباعہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۵۳۱۳، ص۱۰۴۱)
زُہدمیں مقامِ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم
حضرات صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنبھی اپنے مدنی آقا، دوعالم کے داتا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں کی مکمل اتباع کرتے تھے، ان میں سے بعض کے زہدوتقوی کویہاں بیان کیاجاتاہے۔
(۱) …مدنی آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے گھروالے :
سب سے پہلے حضرت سیدنا علی المرتضی ، حضرت سیدتنافاطمۃ ا لزھراء، حضرت سیدنا حسن اورحضرت سیدناحسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم کاذکرکیاجاتاہے جواہل بیت اورحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سب سے قریبی رشتہ دارہیں ۔چنانچہ، حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضورنبیٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِن کے ہاں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’ میرے دونوں بیٹے یعنی حضرات حسن وحسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماکہاں ہیں ؟ ‘‘ حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی: ’’ آج جب ہم نے صبح کی توہمارے گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی توحضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھ سے فرمایا کہ ’’ میں ان دونوں کو کہیں لے جاتا ہوں ، مجھے ڈر ہے کہ یہ تیرے پاس (بھوک کی وجہ سے ) روئیں گے اورتمہارے پاس انہیں کھلانے کو کچھ نہیں ۔ ‘‘ پس وہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں ۔ ‘‘
توحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی اُدھرتشریف لے گئے ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہاں پہنچے تودیکھا کہ دونوں شہزادے حوض میں کھیل رہے ہیں اور کچھ بچی ہوئی کھجوریں ان کے سامنے پڑی ہیں ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ اے علی ! کیا میرے بیٹوں کو گرمی کی شدت سے پہلے پہلے گھر نہیں لے جائوگے ؟ ‘‘ حضرت علی المرتضٰیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْمنے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آج جب ہم نے صبح کی تو ہمارے گھر میں کھانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع