دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Dunya se be Raghbati aur Umeedon ki Kami | دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں کی کمی

book_icon
دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں کی کمی

الزھد، باب ماجاء فی الکفاف والصبرعلیہ، الحدیث:  ۲۳۴۸، ص۱۸۸۸)

 (۲) …حضرت سیدناابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولوں کے سالار،  دوعالم کے مالک ومختارباذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ عظمت نشان ہے:  ’’  میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ مومن ہے جو کم مال کے سبب ہلکے بوجھ والاہو ،  اسے نمازسے حصہ دیاگیاہو،  اپنے پروردگا رعَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت احسن انداز سے بجا لاتا ہو ، تنہائی اور پوشیدگی میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی اطاعت کرتا ہو ،  لوگوں میں چھپاہواہو (یعنی شہرت نہ رکھتاہو)  ،  اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں اوراسے بقدرِ ضرورت رزق دیاگیاہو اور وہ اس پرصبرکرتاہو۔  ‘‘

            پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی انگلیوں سے ضرب لگاتے ہوئے فرمایا:   ’’ اور اُس کی موت جلد واقع ہوجائے ، اس پر رونے والے کم ہوں اوراس کا ورثہ کم ہو ۔ ‘‘ اورپھر ارشادفرمایا:  ’’  میرے رب عَزَّ وَجَلَّ  نے مجھ پرمکہ کی وادی کو پیش کیا کہ وہ اُسے میرے لئے سونا بنادے تو میں نے عرض کی:   ’’ نہیں ،  اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  ! بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں ۔ ‘‘

            یایہ ارشادفرمایا:  ’’ تین دن کھاؤں اور تین دن بھوکا رہوں ،  جب بھوکا رہوں گا تو تیرے حضور گریہ وزاری اور تیراذکرکروں گا اور جب کھائوں گاتو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد وثنا ء بجالائوں گا ۔ (المرجع السابق، الحدیث: ۲۳۴۷)

 (۳) … امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک طویل حدیث مروی ہے ،   (اُس میں یہ بھی ہے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشادفرماتے ہیں :  ’’ مالکِ کون ومکان، مکی مدنی سلطان ،  رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایسی چٹائی پرآرام فرما رہے تھے جس پرکچھ بچھا ہوانہ تھا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک سر کے نیچے چمڑے کاایک تکیہ تھاجس میں کھجورکی چھال بھری ہوئی تھی ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس قدموں کی طرف  ’’ سلم  ‘‘ درخت کے پتوں کاڈھیرلگا ہوا تھا اورسرِاقدس کے پاس چمڑا لٹک رہا تھا۔میں نے دیکھاکہ اُمت کے غمخوارآقا ،  دوعالم کے داتا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پہلوپرچٹا ئی کے نشان پڑگئے تھے ، یہ دیکھ کرمیں رونے لگا۔ ‘‘

          نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا:  ’’ کیوں روتے ہو؟  ‘‘ میں نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! قیصروکسرٰی دنیا کی آسائشوں اورنعمتوں میں ہیں جبکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تواللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے رسول (صَلَّی اللہ  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ) ہیں ؟  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا :  ’’ اے عمر  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)  کیا تم اس پرراضی نہیں کہ ان کے لئے دنیاکی عارضی نعمتیں ہوں اور تمہارے لئے آخرت کی ابدی راحتیں ؟  ‘‘  (صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب فی الایلاء۔۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۶۹۲، ص۹۳۰)

 (۴) …حضرت سیدنا کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ میں حضورنبیٔ پاک،  صاحبِ لَولاک،  سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ بابرکت میں حاضرہواتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرے کومتغیر پایامیں نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاچہرہ متغیرکیوں ہے ؟  ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’  تین دن ہوگئے میرے پیٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں گئی جوکسی جاندارکے پیٹ میں جاتی ہے ۔ ‘‘

            حضرت سیدناکعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ میں کچھ لانے کے لئے چلاگیا اور راستے میں دیکھا ایک یہودی اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا ، میں نے اس کے اونٹوں کوپانی پلایا اور ہر ڈول کے عوض ایک کھجور بطوراُجرت لی ، پھر ساری کھجوریں اکھٹی کرکے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں پیش کردیں ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے استفسارفرمایا :  ’’ اے کعب !  یہ کہاں سے لائے ہو ؟   ‘‘ تو میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے معاملہ عرض کردیاتوحضورنبیٔ رحمت،  شفیع امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا :  ’’ اے کعب ! کیاتم مجھ سے محبت کرتے ہو؟  ‘‘  میں نے عرض کی:  ’’  میرے باپ آپ پرقربان ، جی ہاں !  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔ ‘‘  ارشادفرمایا:  ’’ جو مجھ سے محبت رکھتا ہے فقر اس پر اس سے بھی جلدی آتا ہے جتنا پانی اپنے گڑھے کی طرف جاتاہے ، عنقریب تم پربھی آزمائش آئے گی پس اس کے لئے تیاررہنا۔ ‘‘

             (پھرکچھ دن کے بعد)  حضورنبیٔ پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو نہ پایا توصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا :   ’’ کعب کو کیا ہوا؟  ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ وہ بیمارہیں ۔ ‘‘  توحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف تشریف لے گئے اوران کے گھر پہنچ کر ارشادفرمایا:  ’’ اے کعب ! تیرے لئے خوشخبری ہو ۔ ‘‘  (یہ سن کر)  حضرت سیدنا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ نے کہا:  ’’ اے کعب!  تجھے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن