دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Dulha Par Phool Nichawar Krnay Kaisa | دُولھا پرپھول نچھاورکرناکیسا؟

book_icon
دُولھا پرپھول نچھاورکرناکیسا؟

کے اَذیت دیتا ہے ۔ پاگل کى تعرىف اعلىٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے کچھ اِس طرح بیان کی ہے کہ جو  بے سبب گالىاں دے اور اینٹ پتھر اُٹھا کر پھىنکے ایسا شخص پاگل کہلاتا ہے ۔ ([1])اب اگر کسی کا  سگا باپ بھی پاگل ہو تو اس سے جان بچانا فرض ہے ایسا نہیں  کہ باپ کے ہاتھ میں پتھر ہو اور بیٹا سر جھکائے کھڑا ہو جائے بلکہ اُسے اپنے آپ کو بچانا ہو گا اس لیے کہ باپ ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا نہیں رہے گا کھوپڑی پر دے مارے گا ۔ عام طور پر اَذیت پہنچانے کے  مَسائل ىک  طرفہ نہیں دو طرفہ ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی رِشتہ دار اَذىت دىتا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کی اَذیت پر صبر کرتے ہوئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اِنْ شَآءَ اللّٰہ مُعاملات دُرُست ہو جائیں گے ۔ اگر رِشتہ دار اَذىت دىتاہے  تو آپ بھی اُسے  اَذىت  دو یہ طریقہ  ٹھىک نہیں  بلکہ آپ صِلۂ رحمى (رِشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک)کىے جاؤ ۔   اگر یک طرفہ اَذیت کی کوئى نادر صورت  ہو تو دارالافتا اہلسنَّت  سے رُجوع کر  لیا  جائے اور مفتیانِ کِرام سے مسئلہ پوچھ لیا  جائے کہ ہمارا  فُلاں  رِشتہ دار  ہمیں اَذىت دىتا ہے اور ہم اُس پر  پُھول بَرساتے ہىں اور  وہ پتھر  اُٹھا کر ہمیں دے مارتا ہے ،   ہم نے اس پر  اتنے اتنے پُھول بَرسائے ہىں اور اس نے ہمیں اتنے پتھر مارے ہیں ،  یہ دیکھیے ہم نے  اس کے مارے ہوئے پتھر جمع کر کے رکھے  ہىں ۔  عام طور پر دونوں طرف سے ہى اَذیت کی صورت ہوتی ہے مگر کہا ىہى جاتا ہے کہ فُلاں ہمیں تکلىف دىتا ہے اور ہمارے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتا ہے حالانکہ سامنے والا بھی تکلیف پہنچانے والے سے کوئى اچھا سلوک نہىں کر رہا ہوتا ۔  سُوال کرنے والے کو  اگر واقعى کوئى  ایسی صورت دَرپىش ہو کہ  اَذىت یک طرفہ ہے تو اُسے چاہىے کہ  دارُ الافتا اہلسنَّت کے مُفتیانِ کِرام کو  اَذیت کی صورت بتا کر  شرعی  مسئلہ معلوم کر کے  اس پر عمل کرے ۔

مِسواک کرنے  کی چند اچھی نیتیں

سُوال: مِسواک کرنے  کى کچھ اچھى نىتىں بىان فرما دىجیے  ۔

جواب: مِسواک کرتے ہوئے ىہ نىتیں  کی جا سکتی ہیں :(1)اللہپاک کى رِضا کے لىے مسواک کر رہا ہوں ۔ (2) اِتباعِ سُنَّت مىں مِسواک کر رہا ہوں ۔ (3)منہ کو خوشبو دار رکھنے اور دانتوں کا پىلا پن  دُور کرنے کے لیے مسواک کر رہا ہوں ۔  (4)ذِکر و دُرُود کے لىے منہ کو صاف کرنے کے لىے مِسواک کر رہا ہوں ۔  اِن نیتوں  کے عِلاوہ بھى اگر  کوئى نىت   مستحضر  ہو جائے اور اس کا موقع محل بھی  ہو تو وہ  نىت بھی  کى جا  سکتى ہے ۔ میرے پاس اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  وُضو خانے پر کئی مِسواکیں ہوتی ہیں اور جب مجھے  کہیں آنا جانا ہوتا ہے تو  میں  جیب میں مسواک  رکھ لیتا ہوں جبکہ پتا ہو کہ وہاں  مِسواک کی ضَرورت پڑے گی ۔

فوت شُدہ اَفراد کی رُوحیں گھروں پر آتی ہیں

سُوال: کیا فوت شُدہ اَفراد  کی رُوحیں اپنے اپنے  گھر آتی ہیں ؟

جواب: جى ہاں! فوت شُدہ اَفراد کی رُوحیں شَبِ بَراءت میں اپنے اپنے گھروں میں آتى ہىں ۔  اِسی طرح   غالباً جمعرات کو بھى آتى ہىں اور اِس حوالے سے مختلف رِواىات ہىں ۔ شَبِ جمعہ ،   شَبِ بَراءت اور دِیگر بعض  خاص مواقع پر رُوحىں گھروں پر آتى  ہىں اور اِىصالِ ثواب کا مُطالبہ کرتى ہىں ۔ ([2])اب جب رُوحیں  گھروں پر آتی ہوں گی تو یہ دیکھتی ہوں گی   کہ اَولاد فلمیں ،   ڈرمے اور گانے باجے دیکھنے مىں مَصروف ہے ،   گالىاں بک رہى ہے ،   نمازىں قضا  کر رہى ہے تو ىوں  رُوحوں کو تکلىف تو ہوتى ہو گى ۔  فوت شُدہ والدىن کے بارے میں تو رِواىت بھى ہے کہ ان کے سامنے ہر جمعہ کو اولاد کے  اعمال پىش ہوتے ہىں ،   اولاد کی نىکىاں دىکھ کر ان کا چہرہ پُھول کی طرح کھلنے لگتا ہے اور ان کے چہروں پر ترو تازگی اور  خوشى کے آثار ظاہر ہوتے  ہیں اور جب وہ اولاد کے  گناہ دىکھتے ہىں توان کے چہروں پر کدورت کے آثار ظاہر  ہوتے ہىں اور  ان کے چہرے مُرجھا جاتے ہىں ۔ ([3])

مشورہ کرنا سُنَّتِ مُبارَکہ ہے

سُوال: کیا پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی عاداتِ مُبارَکہ میں سے  مشورہ کرنا بھی تھا؟

جواب: اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  جیسی عقل اور حکمت و دانائی نہ کسی کے پاس تھی،   نہ ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے بلکہ  آج تک کوئی ایسا پیدا ہی نہیں ہوا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  جیسا صاحبُ الرائے یعنی دُرُست رائے رکھنے والا ہو ۔ ([4])اس کے باوجود آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا اپنے صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ سے نہ صرف مشورہ کرنا([5]) اور اپنے غلاموں کی حوصلہ افزائی فرمانا  ثابت ہے بلکہ ان مشوروں پر عمل کرنا بھی ثابت ہے  ۔ حتّٰی کہ غزوۂ خندق میں جو خندق کھودی گئی یہ بھی ایک صحابیرَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کے مشورے سے ہی  کھودی گئی تھی ۔  ([6])بعض صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ کے مشوروں کے حق میں  باقاعدہ آیاتِ مُبارَکہ نازل ہوئی ہیں ۔ ([7])لہٰذا مشورہ کرنا سُنَّت ہے اور اچھے کاموں میں مشورہ کرنا بھی چاہیے کہ اِس سے بَرکت ہوتی ہے ۔

 



[1]   فتاویٰ رضویہ،   ۱۹ / ۶۳۵ ملخصاً

[2]    الدرر الحسان فی البعث و نعیم الجنان للسیوطی،   ص۳۳ دار الامین  قاھرة  مصر

[3]    فتاویٰ رضویہ،   ۹ / ۶۵۷

[4]    حضرتِ سَیِّدُنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے 71 آسمانی  کتب  میں لکھا دیکھا کہ اللہ پاک نے دُنیا  کی اِبتدا سے لے کر  اس کے ختم ہونے تک (یعنی قیامت کے قائم ہونے تک)تمام جہان کے لوگوں کو جتنی عقل عطا کی ہے وہ سب مل کر نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آگے ایسی ہے جیسے تمام دُنیا کے  ریگستانوں کے سامنے ریت کا ایک ذَرّہ اور بے شک آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ عقل والے ہیں ۔  ( سبل الھدیٰ والرشاد،   الباب الثالث،   ۱  / ۴۲۷   دارالکتب العلمیة بیروت) 

[5]    مسلم،  کتاب الجھاد والسیر،   باب غزوة البدر،   ص۷۵۹،  حدیث:۴۶۴۱ ماخوذاً دارالکتاب العربی بیروت

[6]    مدارج النبوت ،   قسم اول ،   باب پنجم،  ذکر فضائل...الخ،  ۲ / ۱۶۸ماخوذاً مرکز اھل سنت برکات رضا ھند

[7]    بخاری،  کتاب الصلوة،   باب ما جاء فی القبلة...الخ،  ۱ /  ۱۵۸،   حدیث:۴۰۲ماخوذاً  دار الکتب العلمية بيروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن