میت کو دو بار غسل دینے کا رواج بند کرنا چاہیے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Dulha Par Phool Nichawar Krnay Kaisa | دُولھا پرپھول نچھاورکرناکیسا؟

book_icon
دُولھا پرپھول نچھاورکرناکیسا؟

مَیِّت کو دو بار غسل دینے کا رواج بند کرنا چاہیے

سُوال:  بعض علاقوں مىں مَىِّت کو دو بار غسل دىا جاتا ہے  ۔ اىک بار اِنتقال کے فوراً بعد اور  دوسرى بار دفنانے سے تقرىباً  آدھا  گھنٹہ قبل ۔ کىا اِس طرح مَىِّت کو دو بار غسل دىنا جائز ہے ؟ (مجلس تجہىز و تکفىن ،  خىبر پختون خواہ کے ذِمَّہ دار کا سُوال)

جواب: مَىِّت کو غسل دینا فرضِ کفاىہ ہے  ۔ ([1])جو اىک بارغسل دینے سے ادا ہو گىا،  اب  دوسرى بار غسل دىنا ىہ شرىعت مىں نہىں ہے  اور  سُنَّت کے بھى خلاف ہے  ۔ ىہاں تک کہ بہار ِ شرىعت مىں لکھا ہے :اگر  غسل کے بعد مَیِّت کے بدن سے گندگى نکل آئے  تو گندگى کو دھو ڈالا جائے ،   غسل کو لوٹانے کى ىعنى دوبارہ غسل دىنے کى حاجت نہىں ہے  ۔ ([2]) لہٰذا اگر  کہىں دو بار غسل دینے کا رواج ہے تو  اُسے  بند کرنا  چاہىے  ۔

ذاتی دوستیوں کے نقصانات

سُوال:  کسى اىک کى جانب دِل مائل ہو جاتا  اور دوستى ہو جاتى ہے ،   اگر اس سے جان چھڑاتے ہىں تو دوسرے سے ذاتی دوستی ہوجاتى ہے ،  اِس کا کوئی حَل اِرشاد فرما دیجئے  ۔ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)

جواب: گجراتى مىں اىک کہاوت ہے :”نبرونکھو دواڑے ىعنى جو فارغ ہوتا ہے  وہ بَربادىوں کو دعوت دىتا ہے  ۔ “اگر بندہ مَصروف ہو تو  اس کے پاس فضول دوستىوں کے لیے وقت ہى نہىں ہوتا ۔ دوست کو ٹائم دىنا پڑتا ہے اب ٹائم وہی دے گا جس کے ذِمّے دِىن یا دُنىا کا کوئى کام نہ ہو گا ۔  دُنىوى طور پر جو مَصروف ہو گا  وہ بھى اِس طرح کى دوستىوں سے بچتا رہے گا کہ کہاں اس کو پالىں گے اورکہاں سے اسے  ٹائم دىں گے ؟اِسى طرح جو دِىنى کاموں مىں مَصروف ہوتے ہىں تو ان کے پاس بھى ذاتی دوستیوں کے لیے ٹائم نہىں ہوتا  ۔ ان دوستىوں میں دوست کو لبہانے اور نبھانے کے لیے فالتو باتىں بھی بہت کرنا پڑتى ہىں ۔ اگر مونگے مونگے (یعنی خاموش) رہىں گے اور بات چىت نہىں کرىں گے تو دوست ٹکے گا نہىں،   ىُوں فُضُول باتىں ہوتے ہوتے گناہوں بھرى باتوں شروع ہونے مىں دىر کتنى لگتى ہے ۔ بہرحال فُضُول دوستیوں اور باتوں کے بجائے اپنے آپ کو دِىنى کاموں مىں مَصروف کر لىں ۔  فضول گوئی کے نقصانات جاننے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کا رِسالہ”خاموش شہزادہ“ کا مُطالعہ کیجئے ۔ جب یہ رِسالہ چھپا تھا تو اِس طرح کی مَدَنى بہارىں ملى تھىں”کہ مىرى ذاتی دوستىاں تھىں لیکن یہ رِسالہ پڑھ کر زبان کے قفلِ مدىنہ(یعنی فضول باتوں سے خاموش رہنے )کا ذہن بنا تو مىں نے ذاتی دوستىاں چھوڑ دیں تاکہ فضول باتوں سے بچ پاؤں ۔  قفلِ مدىنہ لگانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  اب مىں اتنے اتنے سو ىا اتنے اتنے ہزار دُرُود شرىف پڑھ لیتا  ہوں  ۔ “بہرحال ان دوستىوں سے جان چُھڑانے مىں ہى عافىت ہے  ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ  دوستى بھى اللہ کے لىے ہو اور دُشمنى بھى اللہ کے لىے ہو ۔   

دوست ایسا ہو  جسے  دىکھ کر اللہ یاد آئے

سُوال: ہماری دوستی اللہ کے لیے ہے یا نہیں ،  اِس کی پہچان کیسے ہو گی؟ ([3])

جواب: یہ ذہن بنا لىنا کہ مىرى فُلاں سے دوستى صِرف اللہ پاک کے لىے ہے ،  ىہ کافى نہىں ۔  اللہپاک کے لىے دوستی کىسى ہوتی ہے ،  اَحادیثِ مُبارَکہ میں اِس کے متعلق مَضامىن موجود ہىں مثلاً ایک رِوایت میں فرمایا گیا: اس سے دوستى کرو ىعنى اس کى ہم نشىنى اور صحبت اِختىار کرو جسے  دىکھ کر تمہىں خُدا ىاد آ جائے  ۔ ([4])جس کى باتوں سے تمہیں اپنی  آخرت بہتر بنانے مىں مدد ملے ىعنى جو گناہوں سے بچائے اور نىکىوں کے راستے پر لگائے ۔ دوست ایسا ہو  جسے  دىکھ کر اللہ ىاد آئے ،   فلموں کے اىکٹر ،   کھلاڑى،  امپائر اور چىمپىن ىاد نہ آئىں  اور نہ یہ ہو کہ  ىہ گانے بہت اچھے گاتا  ہے ،   فُلاں چٹکلے بہت سناتا ہے ،   ہنساتا بہت ہے اس لىے اس سے  دوستى کی ۔ آ ج کل تو حسن و جمال دىکھ کر بھی دوستی کی جاتی ہے  ۔ بعض نادان اَمرد یعنی خوبصورت لڑکے سے  دوستى کر لىتے ہىں  ۔ اس کے  پىچھے پىچھے لٹو  کى طرح گھوم رہے ہوتے ہىں  ۔ اَمرد بے چارے کی سمجھ میں  نہىں آتا کہ ىہ مىرے پىچھے کىوں لگا ہوا ہے  اور خرچہ کیوں کر رہا ہے ؟ وہ خرچہ اس لیے کر رہا  ہوتا ہے تاکہ اَمرد کو ہلائے اور  اسے  دىکھ دىکھ کر اپنا دِل بہلائے حالانکہ اِس نیت سے خرچ کرنا حرام اور جہنم مىں لے جانے والا کام ہے  ۔ ([5]) بعض لوگ مال دیکھ کر دوستى کرتے ہىں اور پھر بڑی ترکیب سے پیسا نکلواتے ہیں مثلاً اگر کبھی کڑاہى گوشت یا کوئی اور اچھی چیز کھانے کا دِل چاہتا ہے لیکن اپنی جىب مىں پھوٹى کوڑی بھی نہیں تو  اب امیر دوست کو بولیں گے :ىار! آج فلاں ہوٹل پر چلتے ہىں مىں تمہیں کڑاہی گوشت کھلاؤں گا ۔ مالدار دوست سوچے گا کہ یہ مىرى کسرِ شان ہے کہ غرىب سے کھانا کھاؤں  ۔ چنانچہ اب وہ  ہوٹل مىں جائىں گے اور کھانے کے بعد یہ غریب خالى جىب کو بجاتا ہوا رُک رُک کر آگے بڑھے گا جیسے  یہ پیسے دینے لگا ہے اتنی دیر میں امیر دوست پیسے دے چکا  ہو گا ۔  بعض اوقات وہ امیر دوست سمجھ بھى جاتا ہو گا کہ ىہ مجھے بے وقوف بناتا ہے ،    چلو بے وقوف بن جاتے ہىں ىہ بھى کىا ىاد رکھے گا ۔  بہرحال کسی سے اُس کے مال کے سبب دوستی کرنا خراب مُعاملہ ہے  ۔ دوست اپنا ہم پلہ ہونا چاہىے ورنہ مالدار کی دوستی بعض اوقات تہمت مىں بھى مبتلا کرتى ہے ۔ لوگ بولىں گے کہ اس نے فُلاں سے مال کی وجہ سے دوستى کر رکھى ہے ۔ اِس طرح کى دوستىاں مُعاشرے مىں بہت نظر آتى ہىں،  بعض لوگ  پیسوں کے چکر میں امیروں  کے پىچھے پىچھے گھومتے ہیں ۔   دوست اپنا ہم وزن ،   نىک سىرت ،  اللہ والا اور نىکى کے راستے پر لگانے والا ہو نا چاہیے ۔

ذاتی دوستی مدنی کاموں میں رکاوٹ  کا سبب ہے

 



[1]    فتاویٰ ھندية،  کتاب الطھارة،  الباب الحادی والعشرون فی الجنائز،  الفصل الثانی فی الغسل،  ۱ / ۱۵۸دار الفکر بیروت

[2]    بہارِ شریعت،  ۱ / ۸۲۷،  حصہ:۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی - ردالمحتار،  کتاب الصلاة،  مطلب فی صلاة الجنازة ،  ۳ /  ۱۲۲ماخوذاً  دار المعرفة بيروت 

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

2    جامع صغیر،  الجزء الثانی،  حرف الخاء،   ص۲۴۷،  حدیث:۴۰۶۳ دار الکتب العلمیة بیروت

3     بَحْرُ الرَّائِق ،  کتاب القضاء،   ۶ / ۴۴۱ کوئٹہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن